انوارالعلوم (جلد 4) — Page 5
العلوم جلدم اطاعت اور احسان شناسی کے ادا کرنے میں روک نہ ہو جو اسلام انفرادی طور پر ایک مسلمان پر فرض کرتا ہے۔مثلاً نماز - روزہ حج زکوۃ وغیرہ اور ان کے ادا کرنے میں آزادی ہو تو اس کی اطاعت اسلام فرض قرار دیتا ہے۔ہاں ایسی باتیں جو افراد سے نہیں بلکہ حکومت سے تعلق رکھتی ہیں مثلاً چور کے ہاتھ کاٹنا یا زانی کو سنگسار کرنا وغیرہ ان سے افراد کو کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ ان کے متعلق جواب دہ ہیں اور جب ان کے ادا کرنے میں آزادی حاصل ہو تو ان پر حکومت کی اطاعت کرنا اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ اور رسول کے دوسرے احکام کی اطاعت۔اس بات پر دنیا میں عمل کرنے سے کوئی فساد اور کوئی جنگ نہیں ہو سکتی۔یہ جنگ جو آج کل ہو رہی ہے اس میں بھی طرفین میں کچھ ایسے لوگ ہیں جو آپس کے مذہبی تعلقات یا کسی اور وجہ سے اپنے ہی لوگوں کے راستہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کمزوری واقع ہو جاتی ہے اور دشمن کو کامیابی کا موقع مل جاتا ہے۔پھر وہ لوگ جو تاریخوں سے واقف ہیں جانتے ہیں کہ اسی وجہ سے کیسی کیسی خطرناک لڑائیاں ہوئی ہیں۔ہمارے مذہب اسلام کے خلاف جو جنگیں ہوئی تھیں ان کی بھی یہی وجہ تھی مگر اسلام کہتا ہے کہ جس حکومت کے ماتحت رہو اس کی اطاعت میں فرق نہ آنے دو۔یہ نہیں کہ وہ اگر تمہارے کسی ہم مذہب بادشاہ سے بر سر پیکار ہیں تو تم اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہو۔اس اصل کو سامنے رکھ کر دیکھ لو۔کیا اس پر عمل کرنے سے کوئی فتنہ اور فساد پیدا ہو سکتا ہے۔ہرگز نہیں۔بلکہ اس طرح تو بہت سی جنگیں رک جاتی ہیں کیونکہ جب کوئی لڑائی کا آغاز کرنے والی حکومت دیکھے گی کہ اس کے گھر میں بڑا پختہ اتفاق و اتحاد ہے اور اس کے تمام لوگ یک جان ہو کر قربان ہونے کے لئے تیار ہیں تو وہ حملہ کرنے کا خیال ترک کر دے گی ، دشمن حملہ اسی وقت کیا کرتا ہے جبکہ گھر میں فساد اور نا اتفاقی کے آثار دیکھتا ہے اور جب یہ نہ ہوں تو پھر بڑی بڑی طاقتور سلطنتیں بھی حملہ کرنے سے جی چراتی ہیں۔اسلام کے خلاف جو صلیبی جنگیں ہوئیں ان کی یہی وجہ تھی کہ عیسائی حکومتوں نے دیکھا کہ مسلمانوں کے ماتحت جو عیسائی ہیں وہ حکومت سے خوش نہیں ہیں چنانچہ جب انہوں نے حملہ کیا تو گھر سے عیسائی باشندے اٹھ کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کا ناک میں دم کر دیا۔تو بہت ی جنگیں اسی وجہ سے شروع ہو جاتی ہیں کہ دشمن جانتا ہے یا سمجھتا ہے کہ ان کے گھر سے ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے لیکن اگر ایسا نہ ہو تو بہت سی جنگیں رک جائیں اور اگر لڑائی