انوارالعلوم (جلد 4) — Page 4
والعلوم جلد سختی کے ساتھ روکا ہے اور صریح طور پر فرمایا ہے کہ یہ بڑی بے دینی اور شرارت ہے۔یہود کا ذکر کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں۔ان امیوں کا ہم پر کوئی حق نہیں ہے کہ ان سے معاہدے کر کے توڑیں نہیں۔اس قول سے نفرت کا اظہار کرتا اور انہیں جھوٹے قرار دیتا ہے۔تو اسلام نے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ حاکم خواہ کسی مذہب اور کسی قوم کا ہو اس سے بد دیانتی، بد عہدی اور بغاوت نہیں کرنی چاہئے۔اس کے معاہدات کو تو ڑنا جائز نہیں ہے بلکہ جو معاہدات اور اقرار ہوں انہیں ضرور نباہنا چاہئے۔یہ ایسی لطیف اور بے عیب تعلیم ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی ایسا مسلمان جو قرآن کریم پر ایمان رکھے اور اس کے سمجھنے کی توفیق پائے وہ کسی کے سامنے نہ تو شرمندہ ہو سکتا۔اور نہ اسے نفاق اختیار کرنا پڑتا ہے۔پھر قرآن کریم کا یہ حکم کہ اَطِيْعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الأمْرِ مِنْكُمْ (النساء : (۲۰) اللہ اور اس کے رسول اور جو تم پر حاکم ہو اس کی اطاعت کرو۔اس سے تمام فتنے اور فساد اٹھ جاتے ہیں۔اس وقت تک جس قدر ایسی مذہبی لڑائیاں ہوئی ہیں، جن لوگوں نے اپنے حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہیں ان کا باعث یہی ہوا ہے کہ جس ملک کے ساتھ ان کے بادشاہ کی لڑائی تھی وہ ان کا ہم مذہب تھا اور اپنا بادشاہ غیر مذہب کا۔یورپ کی صلیبی جنگوں میں یہی بات تھی جو کام کر رہی تھی۔فرانس سے بعض سیاسی وجوہات کی بناء پر جنگ شروع ہوئی تھی۔مگر سپین اور فرانس کے لوگ اپنے بادشاہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔انہوں نے سمجھا کہ ہمارے مذہب کے خلاف جنگ کی جارہی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ اولوالامر کی اطاعت کرو۔خواہ کوئی ہو اس کی اطاعت سے نکلنے کا کسی صورت اور کسی وقت بھی تمہیں حکم نہیں ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ اس کے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں رہ سکتا۔تو اسلام نے صاف طور پر فیصلہ کر دیا ہے کہ جو کسی پر حاکم ہو اس کی اطاعت کرنا اس پر فرض ہے۔فرماتا ہے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کے بعد یعنی اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی پابندی کرنے میں کوئی روک نہیں پاتے تو پھر تم پر فرض ہے کہ ان حکام کی اطاعت کرو جو تم پر حکمران ہوں۔یہاں خدا تعالیٰ نے اولوالامر کی اطاعت کرنے کی دو شرطیں بتائی ہیں۔ایک یہ کہ اللہ کی اگر اطاعت کھلے بندوں کر سکو دوسرے یہ کہ اس کے رسول کے احکام کے ماننے اور ان پر عمل کرنے میں کوئی روک نہ پاؤ تو پھر اولوالامر کی اطاعت کرو۔پس ہر ایسی حکومت جو ان فرائض