انوارالعلوم (جلد 4) — Page 6
ام جلد شروع بھی ہو جائے تو ایسی سلطنت جس کے گھر میں اتفاق و اتحاد ہو دشمن کا بڑی عمدگی سے مقابلہ کر سکتی اور اسے بھگا سکتی ہے کیونکہ اسے گھر کا فکر نہیں ہو تاکہ اس میں فساد پیدا ہو جائے گا۔اس لئے اس کی ساری توجہ اور قوت دشمن ہی کے اندفاع میں لگ جاتی ہے اور اسے شکست دے دیتی ہے۔لیکن اتفاق و اتحاد اس طریق سے پیدا ہوتا ہے جو اسلام نے بتایا ہے اور جس کی تلقین اس نے اپنے پیروؤں کو کی ہے کہ اپنی حکومت کی اطاعت کرو۔ایسی اعلیٰ اور بے نقص تعلیم اور کوئی مذہب نہیں پیش کر سکتا۔دیگر مذاہب اپنے اپنے مذہب کے بادشاہ کی اطاعت کی تعلیم تو دیں گے اور اس کی فرمانبرداری کا بھی حکم کریں گے۔مگر قرآن کریم کے سوا اور کسی مذہب کی کتاب میں یہ نہیں ہو گا کہ غیر مذہب کے حکمران کی بھی اطاعت کرو حالا نکہ اصل سوال یہی ہے جس کا جواب ہونا نہایت ضروری ہے کیونکہ اپنے مذہب کے حکمرانوں کی اطاعت تو اکثر کرتے ہی ہیں کیونکہ وہ اسے اپنی ہی حکومت سمجھتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کوئی غیر مذہب کا حاکم ہو تو اس کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہئے اس کا جواب سوائے قرآن کریم کے اور کوئی کتاب نہیں دیتی۔قرآن ہی کہتا ہے کہ تمہارا حاکم خواہ کوئی ہو تم نے جو اس سے اطاعت اور فرمانبرداری کا معاہدہ کیا ہے اس کے کبھی خلاف نہ کرنا اور اس کی ضرور اطاعت کرتا۔تو قرآن کریم نے یہ ایک ایسا اصل بتا دیا ہے کہ اگر تمام لوگ اس پر عمل کریں تو ہونے والی نصف جنگیں اس سے رک سکتی ہیں۔اسلام کی اس تعلیم کے ماتحت حضرت مسیح موعود نے اپنی جماعت کو بار بار اور بڑے زور سے گورنمنٹ برطانیہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف توجہ دلائی ہے اور بتایا ہے کہ وہ شرطیں جو قرآن کریم نے رکھی ہیں وہ چونکہ اس سلطنت میں پوری ہوتی ہیں اس لئے اس کی اطاعت بھی فرض ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَطِيْعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِى الأمر مِنْكُمْ (النساء : (۲۰) کہ اول اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور پھر اولوالامر کی کرو۔پس اب جبکہ اللہ اور اس کے رسول کی وہ اطاعت جو ہمارے ساتھ تعلق رکھتی ہے اس میں ہمیں آزادی ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں ہے کہ اولوالامر کی اطاعت نہ کی جائے۔اس طرف آپ نے بڑے زور سے اور بڑی کثرت کے ساتھ توجہ دلائی ہے اور کہا ہے کہ میں نے تو کوئی کتاب یا اشتہار ایسا نہیں لکھا جس میں گورنمنٹ کی وفاداری اور اطاعت کی طرف اپنی