انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 583

لوم جلد ۴ ۵۸۳ تقدیر الهی کے بجھنے سے بھی انسانی فعل کی طرف اشارہ کرنا نہیں بلکہ جلنے اور بجھنے کی قابلیت سے ہے۔پس صحیح یہی ہے کہ ایک تقدیر نے دوسری تقدیر کو بدل دیا۔ورنہ خدا تعالیٰ اگر آگ میں جلانے کی خاصیت نہ رکھتا تو کون کسی چیز کو جلا سکتا اور اگر وہ پانی میں بجھانے کا مادہ نہ رکھتا تو کون اس کے ذریعہ سے آگ کو بجھا سکتا۔اسی طرح مثلاً اگر ایک شخص زیادہ مرچیں کھا لیتا ہے جو اس کی انتڑیوں کو چیرتی جاتی ہیں اور ان میں خراش پیدا کر دیتی ہیں تو وہ کہتا ہے یہ تقدیر ہے۔اس کے مقابلہ میں وہ ایک تقدیر سے کام لیتا ہے یعنی گھی یا کوئی اور چکنائی یا لعاب اسپغول کھا لیتا ہے جس سے خراش دور ہو جاتی ہے اور یہ پہلی تقدیر کو مٹا دیتی ہے۔اس سے بڑی مثال حضرت عمر کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے۔اس وقت اسلامی لشکر میں طاعون پڑی اور ابو عبیدہ بن الجراح جو لشکر کے سردار تھے ان کا خیال تھا کہ وبائیں تقدیر الہی کے طور پر آتی ہیں۔پس وہ پر ہیز وغیرہ کی اہمیت کو نہیں سمجھ سکتے تھے۔حضرت عمر جب اس لشکر کی طرف گئے اور مہاجرین و انصار کے مشورہ سے واپس لوٹنے کی تجویز کی تو اس پر حضرت ابو عبیدہ نے کہا۔اَفِرَارًا مِنْ قَدَرِ اللهِ۔یعنی اے عمر! کیا آپ اللہ تعالیٰ کی تقدیر سے بھاگ کر جاتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔نَعَمْ نَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللهِ إِلى قَدَرِ الله - (بخاری کتاب الطب باب ما يذكر فی الطاعون یعنی ہم اللہ تعالیٰ کی قدر سے بھاگ کر اس کی قدر کی طرف جاتے ہیں۔اور یہ بات وہی تھی جو مسلمانوں کو ایک مسنون دعا میں سکھائی گئی ہے۔اور جس کے متعلق ہر ایک مسلمان سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اسے سونے سے قبل دعا کے طور پر پڑھا کرے اور اس کے بعد کوئی کلام نہ کیا کرے۔اس دعا میں آتا ہے۔لا ملجا وَلَا مَنْجى مِنْكَ إِلا اِلَيْكَ - (بخاری کتاب الدعوات باب اذا بات طاهرا) یعنی اے خدا! تیرے غضب سے بچنے کی اور اس سے پناہ پانے کی سوائے تیری درگاہ کے اور کوئی جگہ نہیں۔ایک تقدیر کے مقابلہ میں دوسری تقدیر کے استعمال کرنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی کا ایک ہاتھ خالی ہو اور دوسرے میں روٹی ہو۔کوئی شخص خالی ہاتھ کو چھوڑ کر دوسرے کی طرف جائے اور کوئی اسے کہے کہ کیا تم اس ہاتھ سے بھاگتے ہو ؟ وہ یہی جواب دے گا کہ میں اس سے نہیں بھاگتا بلکہ اس کے دوسرے ہاتھ کی طرف متوجہ ہوا ہوں۔