انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 582 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 582

انوار العلوم جلدم ۵۸۲ تقدير الى بھی حکم دیا جاتا ہے۔مثلاً صحابہ کرام کو جنگوں کا ثواب ملا اگر یونسی فتح ہو جاتی تو کہاں ملتا۔وہ تقدیر محتاج نہ تھی صحابہ کی تلوار کی مگر صحابہ محتاج تھے تقدیر کے ساتھ عمل کرنے کے تاکہ ثواب سے محروم نہ رہ جائیں۔یہ تین موٹی موٹی وجوہ ہیں تقدیر کے ساتھ اسباب کے استعمال کرنے کی۔اب سوال ہو سکتا ہے کہ پھر بعض اوقات تقدیر میں اسباب سے منع کیوں کیا جاتا ہے ؟ اس کے لئے یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی خدا تعالیٰ مؤمن کو بغیر اسباب کے تقدیر کا اظہار کر کے اپنا جلال دکھانا چاہتا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اس کی قدرت کے مقابلہ میں سب اسباب بیچ ہیں اور خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اب میں اس سوال کا جواب دیتا ہوں کہ کیا تقدیر مل سکتی ہے؟ کیا تقدیر مل سکتی ہے ؟ اس کا مختصر جواب تو یہ ہے کہ ہاں مل سکتی ہے۔تقدیر کے معنی فیصلے کے ہیں اور جو فیصلہ دے سکتا ہے وہ اسے بدل بھی سکتا ہے۔اور فیصلہ کر کے اس کو بدل نہ سکنا کمزوری کی علامت ہے جو خدا تعالیٰ میں نہیں پائی جاسکتی۔اب میں بتاتا ہوں کہ تقدیر کس طرح مل سکتی ہے۔تقدیر کس طرح مل سکتی ہے؟ اول تقدیر عالم طبعی مل سکتی ہے تقدیر عالم طبعی ہے۔مثلاً تقدیر عام طبعی یہ ہے کہ آگ لگے تو کپڑا جل جائے۔اب اگر کسی کپڑے کو آگ لگائی جائے ور وہ جلنے لگے تو کہا جاوے گا کہ اس پر تقدیر عام طبعی جاری ہو گئی ہے مگر اس وقت کے متعلق ایک اور تقدیر بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر آگ پر پانی ڈال دیا جائے تو وہ اسے بجھا دیتا ہے۔پس جب پانی آگ پر ڈالا جائے گا تو وہ بجھ جائے گی اور اس طرح ایک تقدیر عام طبعی دوسری تقدیر عام طبعی کو ٹلا دے گی۔پس تقدیر عام مل سکتی ہے اور وہ اس طرح کہ اس کے مقابل میں ایک دوسری تقدیر کو جاری کر دیا جائے اور اس طرح اسے مٹا دیا جائے۔اگر کوئی کہے کہ جو مثال دی گئی ہے اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تدبیر نے تقدیر کو ٹلا دیا نہ کہ تقدیر نے تقدیر کو۔کیونکہ پانی کو انسان ڈالتا ہے۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر پانی انسان نے ڈالا ہے تو آگ بھی تو بسات اوقات انسان خود ہی دانستہ یا نادانستہ لگاتا ہے۔پس جس طرح پہلے فعل کو تقدیر کہا جاتا ہے دوسرے فعل کو بھی تقدیر کہا جاوے گا۔دوسرے جیسا کہ بیان ہو چکا ہے انسان کا فعل تو تقدیر ہوتا ہی نہیں (سوائے ان صورتوں کے جو بیان ہو ئیں) ہماری مراد آگ لگنے سے بھی اور اس