انوارالعلوم (جلد 4) — Page 584
۵۸۴ تقدیر الهی (۲) جس طرح تقدیر عام طبعی کو تقدیر عام طبعی سے ٹلایا جاتا ہے۔اسی طرح اسے تقدیر خاص طبعی سے بھی ٹلایا جا سکتا ہے۔اگر کسی شخص کے خلاف دنیاوی اسباب جمع ہو رہے ہوں اور وہ ان کا مقابلہ نہ کر سکتا ہو تو وہ خدا تعالٰی کے فضل کا جاذب ہو کر اس کی خاص تقدیر کے ذریعہ سے اس کو ٹلا سکتا ہے۔جیسے حضرت ابراہیم کا واقعہ ہے۔تقدیر عام یہ ہے کہ آگ جلائے مگر حضرت ابراہیم کے لئے خاص تقدیر جاری ہوئی کہ آگ ان کو نہ جلا سکے۔اور وہ آگ کے ضرر سے محفوظ رہے۔اسی طرح تقدیر عام یہ ہے کہ انسان قتل ہونے کی قابلیت رکھتا ہے لیکن رسول کریم ﷺ کی نسبت اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ د (المائدة : ۲۸) اور اب آپ کو دنیا قتل نہیں کر سکتی تھی کیونکہ تقدیر عام کو تقدیر خاص نے بدل دیا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود کے ساتھ بھی ہوا۔(۳) جس طرح تقدیر عام طبعی تقدیر عام طبعی اور تقدیر خاص طبعی سے ٹل جاتی ہے۔اسی طرح تقدیر خاص، تقدیر خاص سے مل جاتی ہے۔یہ اس طرح ہوتا ہے کہ کبھی ایک شخص کے لئے اس کے بعض حالات کے مطابق ایک خاص حکم دیا جاتا ہے۔پھر وہ اپنے اندر تبدیلی کر لیتا ہے تو پھر اس حکم کو بھی بدل دیا جاتا ہے۔مثلاً ایک شخص اللہ تعالیٰ کے دین کے راستہ میں خاص طور پر روک بن جاتا ہے اور لوگوں کو گمراہ کرتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جاتا ہے کہ اسے موت دی جائے لیکن بسا اوقات وہ شخص اس حکم کے اجراء سے پہلے تائب ہو جاتا ہے یا کسی قدر اصلاح کر لیتا ہے تو پھر اللہ تعالی کی طرف سے بھی پہلے حکم کی منسوخی کا حکم مل جاتا ہے۔خاص تقدیر کے خاص تقدیر سے بدلنے کی مثال آتھم کا واقعہ ہے۔اس نے اپنی کتب میں اور زبانی طور پر رسول کریم ﷺ کی ہتک کرنی چاہی اور آپ کو (نعوذ باللہ من ذالک) دقبال کہا اور پھر اس پر ضد کی اور اصرار کیا اور آپ کے نائب اور اللہ تعالیٰ کے مامور مسیح موعود سے مباحثہ کیا اس پر خدا تعالیٰ کی تقدیر جاری ہوئی کہ اگر وہ حق کی طرف رجوع نہیں کرے گا تو پندرہ ماہ کے اندر ہادیہ میں گرایا جائے گا۔یہ خاص تقدیر تھی لیکن جب وہ ڈر گیا اور اس نے کی على الاعلان کہا کہ میں محمد ( الله ) کی نسبت یہ الفاظ استعمال نہیں کرتا اور بد زبانی چھوڑ کر خاموشی اختیار کر لی تو یہ تقدیر ملا دی گئی۔اگر کوئی تلوار لے کر کسی پر حملہ کرے اور کہے کہ چونکہ تم مجھ سے لڑتے ہو۔اس لئے میں بھی تمہارے قتل کے لئے کھڑا ہوں اور اب میں تم کو