انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 448

دم جلد ۴ ۲۴۸ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض اور اس کے نور سے اندھوں کو بینائی بخشیں۔مگر مسلمانوں نے سستی اختیار کی۔پس جب مسلمانوں نے اسلام کی قدر نہ کی اور اسے ترک کر دیا تو خدا نے بھی ان کو ترک کر دیا۔خدا تعالی ظالم نہیں اس نے مسلمانوں کو صرف اسی لئے چنا تھا۔کہ كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ - (ال عمران : 11) جب تک مسلمانوں نے حکم کو قبول اور اس پر عمل کیا اس نے ان کو ترقی پر ترقی دی۔اور اس وقت ان کو عذاب میں مبتلاء کیا جب انہوں نے اپنے نفسوں کو بدل دیا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔إِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ ما بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد: (۱۲) اللہ تعالیٰ کسی قوم پر جو نعمتیں کرتا ہے ان کو اس وقت تک واپس نہیں لیتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے اندر تغیر پیدا کر کے نیکی کے راستہ کو چھوڑ نہ دے۔مگر کسی وقت اگر کوئی غلطی ہو گئی ہے تو اب مسلمان اپنی غلطی سے تائب ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔اور خود اسلام کو سمجھیں اور اس کی حقیقت سے آگاہ ہوں اور دوسروں کو آگاہ کریں۔تاکہ وہ نکبت و ادبار جو اس وقت مسلمانوں پر آرہا ہے وہ دور ہو اور وہ پھر اپنے دولہا کے محبوب بنیں۔اگر مذہب کی خاطر انہوں نے تبلیغ نہیں کی۔اگر خدا کے حکم کے ماتحت انہوں نے اس بے نظیر تعلیم کو دنیا کے سامنے پیش نہیں کیا۔تو اب اپنی حیات کے قیام کے لئے ہی کچھ کوشش کریں۔کیونکہ ان کی زندگی اور اسلام کی تبلیغ اب لازم و ملزوم ہو و گئے ہیں۔اس مضمون پر مجھے خود کچھ زیادہ زور دینے کی ضرورت نہیں۔میں ایک مشہور ہندوستانی کی جو آریہ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں ایک تازہ تحریر سے جو انہوں نے "لیڈر" اللہ آباد میں شائع کرائی ہے ذیل میں اقتباس درج کر کے اس امر کی صداقت یا بطالت کا فیصلہ آپ لوگوں پر ہی چھوڑ دیتا ہوں۔یہ آریہ صاحب لالہ لاجپت رائے ہیں۔وہ اپنی ایک طویل چٹھی میں جو لیڈر " الہ آباد میں شائع ہوئی ہے لکھتے ہیں۔د مجھے اپنے سفروں میں اس سے زیادہ کسی امر نے تکلیف نہیں دی جس قدر کہ اس گہری ناواقفیت اور سخت تعصب نے جو اسلام اور اسلامی ممالک کے متعلق امریکہ میں پھیل رہا ہے۔ممالک متحدہ میں آپ کو چین، جاپان اور ہندوستان کے ہمدرد تو ملیں گے لیکن میں نے اپنے پانچ سالہ سفروں میں ایک شخص بھی ایسا نہیں دیکھا جو اسلام اور اسلامی ممالک کے متعلق کوئی کلمہ خیر مونہہ سے نکالتا ہو۔ایک مسلمان دوست سمیت مجھے ایک مجلس میں جانے کا اتفاق ہوا جس