انوارالعلوم (جلد 4) — Page 449
انوار العلوم جلد ۴ ۴۴۹ ترکی کا مستقبل اور مسلمانوں کا فرض میں ترکی حکومت کے مستقبل کے متعلق گفتگو تھی۔ترکوں کی طرف سے ایک ترک ہی وکیل تھا لیکن جو لوگ اس کو جواب دینے کے لئے کھڑے ہوتے تھے انہوں نے ایسی ناواقفیت اور کھلی کھلی دشمنی اور تعصب کا ثبوت دیا کہ میرے لئے مبر کے ساتھ سننا مشکل ہو گیا۔ترکی وکیل نے بہت بری طرح وکالت کی اور اپنے خلاف تعصب کا طوفان کھڑا کر لیا۔ترکوں کو ایک ڈراؤنی شہرت حاصل ہے اور مسلمان اقوام کے معاملہ کو ایسی طرح پیش کرنے کے لئے کہ لوگوں کے دل میں ان سے ہمدردی پیدا ہو بڑی لیاقت دانائی اور ہوشیاری کی ضرورت ہے۔آخر میرے دوست نے میرے کہنے پر اس تعصب کے کم کرنے کی کوشش کی مگر اس کی آواز " اکیلی آواز تھی۔"مسلمانان ہند پر ان کے مذہب ان کے ہم مذہبوں اور خود اپنے نفسوں کی طرف سے یہ ذمہ داری عائد ہے کہ وہ چند لائق آدمی تمام ذو نفوذ ممالک میں بطور اپنے وکلاء کے مقرر کریں یہ ایک ایسی ضرورت ہے جو فوری توجہ چاہتی ہے یہ تمام ہندوستان کا بلا تفریق مذہب فرض ہے کہ وہ اسلام کی عزت کو بدنامی کے صدمہ سے بچائیں۔اور جب کبھی انہیں کسی مفید نتیجہ کی امید ہو مسلمانوں کے لئے بھی اس انصاف اور حق کا مطالبہ کریں جس کا مطالبہ دوسری اقوام کے لئے کیا جاتا ہے۔لیکن اس میں کوئی کلام نہیں کہ خود مسلمانوں پر ایک ایسی ذمہ داری ہے کہ جسے انہیں بغیر تاخیر اور بغیر پہلوتہی کے بجا لانا چاہئے۔اگر وہ اس ذمہ داری کے بجالانے سے غفلت کریں گے تو اس کا نقصان خود اٹھا ئیں گے۔یہ ایک ہندو کی آواز ہے بلکہ ایک آریہ کی آواز ہے جو مسلمانوں کو خواب غفلت سے جگاتی ہے۔اسلام کی حالت ایسی گر گئی ہے کہ اس سے مذہبی مخالفت رکھنے والے لوگ اب اسے ہوشیار کرتے ہیں اور اس کی حالت ان کے رحم کو جذب کرتی ہے۔بہت سا وقت ضائع ہو چکا ہے اور تھوڑا باقی ہے۔اگر اب بھی ستی کی گئی تو کسی بہتری کی امید رکھنی فضول ہے۔جب تک اسلام بہیمیت اور دنیا کے لئے مہلک بیماری کے رنگ میں دیکھا گیا اس وقت تک مغربی بلاد سے کسی انصاف کی امید رکھنا ایک فضول امر ہے۔اور جب تک دو سرے بلاد خصوصاً امریکہ کی رائے انگلستان کے ساتھ نہ ہو اس وقت تک برطانیہ کی آواز کے سنے جانے کا خیال بھی کرنا ایک وہم ہے۔برطانیہ اکیلا کچھ نہیں کر سکتا برطانیہ کو کسی مددگار کی ضرورت ہے اور چونکہ یہ کام مسلمانوں کا ہے یہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ برطانیہ کو ایسا مددگار تلاش کر کے