انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 386 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 386

انوار العلوم بلدم ۳۸۶ عرفان اتمی۔تو اس کے ازالہ کے لئے پہلے سے بھی زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔کوشش میں اگر کامیاب ہو گئے تو سب کچھ حاصل ہو گیا اور اگر کوشش کرتے کرتے مر گئے تو بھی خدا اس کوشش کے بدلہ میں کچھ نہ کچھ چشم پوشی سے کام لیگا۔لیکن اگر کوشش ہی چھوڑ بیٹھے اور اس حالت میں مر گئے تو پھر سوائے سزا کے اور کسی امر کی امید ہو سکتی ہے۔پس انسان کو چاہئے کہ کوشش میں لگا ہی رہے۔اور ہرگز ناامید ہو کر اسے چھوڑ نہ دے۔سکولوں اور کالجوں میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بعض طالب علم صرف اپنے استقلال کی وجہ سے کامیاب ہو جاتے ہیں۔میں نے ایک ہندو کے متعلق سنا کہ وہ سات سال متواتر امتحان میں فیل ہوتا رہا اور آخری دفعہ جب اس نے امتحان دیا تو اس کا بیٹا بھی اس امتحان میں شامل تھا مگر اس بات سے شرمایا نہیں اور امتحان میں شامل ہؤا اور آخر کامیاب ہو گیا تو گھبرانا نہیں چاہئے اور نہ ہی اپنے نفس کو گرانا اور پیچ سمجھنا چاہئے۔یہ میں عجب کی تعلیم نہیں دے رہا بلکہ استقلال کی دے رہا ہوں تم یہ مت کہو فلاں کام ہم کر نہیں سکتے یا ہم سے ہو نہیں سکتا۔بلکہ کہنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں بھی سب طاقتیں دی ہیں۔خدا تعالیٰ مؤمن کی یہ شان بیان فرماتا ہے۔کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا الله عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ يَنْتَظِرُ (الاحزاب : ۲۲) مؤمنوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنے فرائض کو ادا کر دیا ہے اور بعض تیار ہیں کہ موقع ملے تو ادا کریں۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی نے ایک موقع پر کہا تھا کہ کاش میں بھی بدر کی جنگ میں ہو تا تو خوب اچھی طرح لڑتا اس قسم کی باتیں جب دل سے نکلتی ہیں اور کچی خواہش کا نتیجہ ہوتی ہیں تو عجب نہیں کہلاتیں۔بلکہ ان کی مثال اس دھوئیں کی سی ہوتی ہے جو دبی ہوئی آگ سے نکلتا ہے۔اس صحابی کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا۔چنانچہ وہ جنگ احد میں شامل ہوئے۔اور جب یہ مشہور ہوا کہ رسول کریم ان شہید ہو گئے ہیں۔اور حضرت عمر کو یہ خبر پہنچی اور وہ گھبرا کر بیٹھ گئے۔تو وہی صحابی آیا اور آکر پوچھا کیا بات ہے۔حضرت عمرؓ کے پاس ایک اور صحابی بھی اسی طرح سر نیو ڑائے بیٹھے تھے۔انہوں نے جواب دیا کہ رسول کریم شہید ہو گئے ہیں۔اس نے کہا اگر رسول کریم شہید ہو گئے ہیں تو یہی موقع لڑنے کا ہے اب ہمیں دنیا میں رہ کر کیا کرتا ہے۔یہ کہکر وہ دشمن پر حملہ آور ہوا اور لڑتے لڑتے مارا گیا۔جب اس کی لاش ملی تو معلوم ہوا کہ اسے نشتر زخم لگے تھے۔(سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحه ۸۵ ) به انس بن نضر (بخاری کتاب المغازی باب غزوه احد )