انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 385

وم جلد ۴ ۳۸۵ عرفان الهی جو گھبرا رہا ہے۔اس پر وہ مرید خاموش ہو گیا اگلے دن جو وہ دعا کے لئے اٹھے تو ان کو الہام ہوا کہ اس میں سال کے اندر کی تیری سب دعائیں قبول کی گئیں کیونکہ تو امتحان میں کامیاب ہوا اور آزمائش میں پورا اترا۔اس پر انہوں نے مرید سے کہا کہ دیکھ اگر میں تیری نصیحت پر عمل کرتا تو کس قدر گھاٹے میں رہتا مجھے خدا تعالیٰ پر توکل تھا آخر اس کا قرب مجھے نصیب ہوا۔اب دیکھو کہ اگر وہ بزرگ مرید کی بات مان لیتا تو ایسے دعا میں استقلال ضروری ہے وقت میں جب کہ اس کی ساری دعائیں قبول ہونے میں بہت ہی تھوڑا عرصہ رہ گیا تھا۔اس کا دعا کو ترک کر دینا کیسا خطرناک ہوتا اور اس کی سب محنت ضائع ہو جاتی۔پس مؤمن کو کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے ہمت سے قدم آگے ہی بڑھاتا چلا جادے اور اپنی ناکامی پر کام نہ چھوڑ بیٹھے۔ہاں بے شک غور کرے کہ میری ناکامی کے اسباب کیا ہیں اور اگر کوئی سبب معلوم ہو تو اس کو دور کرنے کی کوشش کرے۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے نا امید کبھی نہ ہو۔بعض لوگ کہتے ہیں ہمارے اعمال کا کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اس لئے ترک کر دیتے ہیں۔میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی نتیجہ نہیں نکلتا تو نہ کی تم اپنا کام کئے جاؤ بالآخر تم ضرور کامیاب ہو جاؤ گے۔دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ کس طرح مؤمن اللہ پر توکل کر کے کامیاب ہوتے ہیں۔فرماتا ہے۔الَّذِيْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوهُمْ فَزَادَهُمْ إِيْمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ (آل عمران : ۱۷۴) یعنی مسلمانوں کو لوگوں نے ڈرانا شروع کیا کہ وہ کامیابی کی پیشگوئیاں کہاں گئیں اب تو سب دنیا تمہارے خلاف جمع ہو گئی ہے پس ان سے ڈر جاؤ۔تو ان کی اس گفتگو سے وہ ایمان میں اور بھی ترقی کر گئے۔کیونکہ یہ بھی تو خبر ان کو مل چکی تھی کہ دشمن بڑے زور سے ان پر حملہ کریگا اور ان کو پامال کرنا چاہے گا مگر پھر بھی وہ کامیاب ہونگے۔پس انہوں نے ان ڈرانے والوں کو یہی جواب دیا کہ جو ہمارا مخالف ہوتا ہے اسے ہونے دو ہمیں تو اللہ ہی کافی ہے۔اور وہ نهایت عمده کار ساز ہے۔جب اس پر تو کل کیا تو پھر کسی اور شے کی کیا پرواہ ہے۔اس آیت سے نتیجہ نکلتا ہے کہ جس قدر مقابلہ سخت ہو اسی قدر مضبوطی سے مؤمن کو کھڑا ہونا چاہئے۔دیکھو کوئی جسمانی مریض اس طرح نہیں کرتا کہ ایک علاج سے اگر اسے فائدہ نہ ہو تو پھر علاج کرانا ہی چھوڑ دیتا ہے۔بلکہ برابر علاج میں لگا رہتا ہے۔یہاں تک کہ فوت ہو جاوے یا اسے صحیح علاج میسر آجاوے۔اسی طرح روحانی امراض کے مریضوں کو بھی چاہئے۔اور اگر بڑا مرض ہو