انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 195 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 195

انوار العلوم جلد تم ۱۹۵ حقیقته الرؤيا اب ایک اور بات باقی رہ گئی ہے اور وہ یہ کہ کہا جا انبیاء کے الہامات میں متشابہات سکتا ہے کہ نبیوں اور ماموروں کے الہامات میں متشابہات ہوتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے الہاموں کو سچا ماننے میں شک پڑ جاتا ہے۔کیونکہ جب خود مامورں کو بھی بعض اوقات ان سے غلطی لگ جاتی ہے تو اور کوئی کس طرح صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے۔لیکن یہ بات انبیاء کے الہامات کے غلط اور جھوٹے ہونے کی دلیل نہیں ہے۔بلکہ ان کی سچائی کی ایک اور علامت ہے لیکن اکثر لوگ اس کو سمجھتے نہیں۔میرے نزدیک اس سے بڑھ کر انبیاء کی صداقت کو ظاہر کرنے والی اور کوئی بات نہیں ہوتی۔کیونکہ اگر نبی کے الہامات میں متشابہات نہ ہوں تو وہ عظمت اور شان جو نبی کی ہوتی ہے وہ ظاہر نہیں ہو سکتی۔اس لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم ہمیشہ متشابہات بھیجا کرتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے بلکہ انبیاء کی شان کو بڑھانے والی ہے۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ الہام دو قسم کے ہوتے ہیں۔مامورین کی ایک وحی ایسی ہوتی ہے جو صرف خبر کا رنگ رکھتی ہے کہ ایسا ہو گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود کو بتایا گیا کہ لیکھرام مارا جائے گا اور وہ مارا گیا۔یا جیسے یہ کہ بنگالیوں کی دلجوئی ہوگی اور ایسا ہی ہو گیا۔ایسی وحی میں چونکہ غیب پایا جاتا ہے اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ خدا کی طرف سے ہے۔لیکن سپر چلزم والوں کا سوال رہ جاتا ہے کہ کیوں نہ مانیں کہ دماغ ہی ایسی باتیں بنا لیتا ہے۔اس کے رد کے لئے خدا تعالیٰ ایسی وحی بھیجتا ہے جو دو پہلو رکھتی ہے۔کہ اگر فلاں شخص ہمارے متعلق یوں معاملہ کرے گا تو اس سے یہ سلوک ہو گا۔اور دوسری طرح سلوک کرے گا تو وہ سلوک ہو گا۔پس اس قسم کی حضرت مسیح موعود کی جو پیشگوئیاں ہیں ان سے یہ ثابت نہیں ہو تا کہ آپ بچے نہیں ہیں بلکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ کوئی نجومی نہیں بلکہ خدا کے نبی تھے اور نبیوں میں سے بھی اولو العزم۔کیونکہ جن کے متعلق ایسی پیشگوئیاں تھیں ان کے حالات بدلنے کے ساتھ ان کے مطابق ہی سلوک ہوا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ حضرت مرزا صاحب کوئی مشین نہیں تھے کہ جس طرح چل پڑے اسی طرح چلتے رہے۔بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نبی تھے جو قادر بالا رادہ ہے۔جس طرح اس نے چاہا اسی طرح ان کو چلایا۔اگر خدا تعالیٰ حالات کو بدلنے کے ساتھ سلوک بھی نہ بدل دے تو پھر اس کے قادر بالا رادہ ہونے کا کوئی ثبوت نہیں رہتا۔اور یہی ماننا پڑتا ہے کہ ایک دفعہ جو بات کہہ دے پھر خواہ وہ مناسب موقع اور بر محل نہ بھی ہو تو بھی اس کے روکنے پر قادر نہیں ہے۔لیکن اس