انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 194

لوم جلد ۴ ۱۹۴ حقیقته الرؤيا صاحب تیری بیعت کریں۔تو حضرت صاحب نے کہا کہ بیعت تو کچھ حاصل کرنے کے لئے کی جاتی ہے۔میں اگر تمہاری بیعت کرلوں تو کیا دو گے۔اور اگر کچھ نہیں دے سکتے تو اتنا ہی کہہ دو کہ سورہ والناس کی تفسیر تم بھی لکھو اور میں بھی لکھتا ہوں۔اگر میں تم سے ہزار درجہ زیادہ معارف نہ بیان کروں تو تمہاری بیعت کر لوں گا۔لیکن اس نے ایسا نہ کیا۔تو ضروری ہے کہ مامورین کے لئے قرآن کریم کے حقائق اور معارف کے دروازے کھولے جائیں۔لیکن آج کل کے ایسے مدعی ہوتے ہیں کہ عربی کا ایک فقرہ بھی صحیح نہیں بول سکتے اور قرآن کریم کا صحیح ترجمہ بھی نہیں کر سکتے۔ZJ آٹھویں علامت یہ ہے کہ ایسے انسان کی زندگی کو خدا تعالی بالکل پاک و صاف کر دے۔کیونکہ اس کا کام دوسروں کو پاک کرنا ہوتا ہے میرے نزدیک مامور کے معنی نبی کے ہی ہیں اور بزرگوں نے بھی مامور کے یہی معنے لئے ہیں۔چنانچہ محی الدین ابن عربی نے فتوحات مکیہ میں اور شاہ ولی اللہ صاحب نے حجتہ اللہ البالغہ میں یہی معنی لئے ہیں۔تو مامور کو خدا ہر قسم کی آلائشوں سے بالکل پاک رکھتا ہے۔تاکہ دوسروں کے لئے نمونہ بن سکے اور لوگ اس سے سبق حاصل کر سکیں۔نویں علامت یہ ہے کہ اس کے الہامات میں خدا کے فضل اور احسان کے وعدے ہوتے ہیں۔کیونکہ وہ عظیم الشان کام کے لئے آتا ہے اور ساری دنیا اس کی مخالفت کے لئے کھڑی ہو جاتی ہے۔پس خدا تعالیٰ بھی اس کو قبل از وقت کامیابی اور فتح کی خبریں دیتا ہے۔اور اپنے فضل کی امیدیں دلاتا ہے۔اور پھر اسی طرح ہو کر رہتا ہے۔دسویں علامت یہ ہے کہ کوئی مامور نہیں آتا کہ خدا لوگوں کی توجہ اس کی طرف نہ پھیر دے۔خواہ لوگ اس کی مخالفت کے لئے کھڑے ہوں یا تائید کے لئے۔لیکن اس کی وجہ سے ایک ہل چل سی مچ جاتی ہے اور سب کی توجہ اس کی طرف ہو جاتی ہے۔لیکن جھوٹے مدعی اس بات کے لئے بہت کوشش کرتے ہیں کہ لوگ ان کی طرف متوجہ ہوں مگر کوئی پوچھتا بھی نہیں۔اور آخر وہ ان ذرائع سے لوگوں کو اکساتے ہیں کہ دیکھو ہم نے فلاں بات لکھی تھی مگر کوئی بولا ہی نہیں پس ہم جیت گئے۔بچے کے دشمن بھی خاموش ہو جاتے ہیں مگر مقابلہ کے بعد۔اور جھوٹے کو کوئی پوچھتا ہی نہیں۔یہ سب علامات میں قرآن کریم سے ثابت کر سکتا ہوں۔