انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 196 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 196

العلوم جلد 194 حقیقته الرؤيا طرح کرنے سے ثابت ہو جاتا ہے کہ اقتدار خدا کے ہاتھ میں ہے۔پس اس قسم کی پیشگوئیاں حضرت مسیح موعود ہی کی نہیں بلکہ پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں حضرت نوح اور ان کے بیٹے کا جو واقعہ لکھا ہے وہ اسی قسم کا ہے۔ان کو کہا گیا تھا کہ کشتی میں اپنے اہل اور مؤمنوں کو بٹھا لو ان کو نجات دی جائے گی۔مگر ان کو نہیں جن کے متعلق پہلے کہا جا چکا تھا۔حضرت نوح نے سمجھا کہ میرا بیٹا بھی اہل میں سے ہے اور اس کے بچائے جانے کا بھی وعدہ ہے۔مگر خدا نے بتایا کہ تمہارا یہ خیال درست نہیں وہ نہیں بچایا جائے گا۔اس کی تفصیل "الفضل" میں میرے درس کے نوٹوں میں چھپ چکی ہے۔تو حضرت نوح اور ان کے بیٹے کا واقعہ قرآن میں موجود ہے۔پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک پیشگوئی بغیر کسی شرط کے سمجھی جاتی ہے مگر وقت پر ٹل جاتی ہے۔جیسے حضرت یونس کا واقعہ ہے۔جس کا ذکر قرآن کریم میں مختصر اور بائبل میں مفصل ہے۔انہیں کہا گیا تھا کہ نینوا والوں کو جا کر کہو کہ چالیس دن کے بعد تم پر عذاب آئے گا۔یہ بغیر کسی شرط کے پیشگوئی تھی۔جسے سن کر وہاں کے بادشاہ نے ٹاٹ کے کپڑے پہن لئے۔سارے لوگ آہ و زاری میں مشغول ہو گئے۔جانوروں اور بچوں کو بھوکا پیاسا رکھا اور چالیس دن تک اسی حالت میں رہے۔چالیس دن کے بعد حضرت یونس اس یقین میں بیٹھے تھے کہ وہ قوم سب کی سب ہلاک ہو چکی ہوگی۔لیکن ان کو معلوم ہوا که وه ای طرح صحیح و سلامت ہے۔یہ معلوم کر کے وہ بہت غمگین ہوئے کہ اب یہ لوگ مجھے کیوں کر سچا مانیں گے اور باہر جنگل میں چلے گئے۔اور جس جگہ جاکر ٹھہرے وہاں بائبل کے بیان کے مطابق خدا نے ایک بیل پیدا کر دی جس نے اس پر سایہ کیا۔لیکن رات کو کسی جانور نے اسے کاٹ کر گرا دیا۔جس سے ان کو صدمہ ہوا۔اس وقت خدا نے انہیں بتلایا کہ دیکھ تجھے اس بیل کے کٹنے سے صدمہ ہوا اور تو نے نہ چاہا کہ میں اسے کاٹوں۔تو تو کیوں اس پر ناراض ہوتا ہے کہ میں نے اپنی ہزار ہا مخلوق کو ہلاک نہ کیا۔اس سے ان کی سمجھ میں بات آگئی اور وہ شہر میں واپس آئے اور لوگ ان پر ایمان لائے۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان لوگوں کو عذاب کی خبر دی گئی تھی اور اس کے آثار بھی ظاہر ہو چکے تھے جیسا کہ قرآن شریف سے بھی اس کا پتہ لگتا ہے۔اور یہ عذاب بلا شرط بھی تھا لیکن پھر بھی ٹل گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ بغیر شرط کی پیشگوئیاں بھی ٹل جاتی ہیں۔پھر دیکھو حضرت موسیٰ کو کہا گیا تھا کہ جاؤ اس ملک میں داخل ہو جاؤ۔وہ تمہارے لئے ہے۔مگر خدا تعالٰی بتاتا ہے کہ چالیس سال تک ان کی قوم کے