انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 181 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 181

انوار العلوم جلد ۴ ۱۸۱ حقيقة الرؤيا لیتا ہے۔ اس وقت اگر وہ اپنی حالت پر قائم رہے اور تکبر میں مبتلاء نہ ہو تو اعلیٰ مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے۔ اور اگر قائم نہ رہے اور تکبر میں گرفتار ہو جائے تو نیچے پھینک دیا جاتا ہے۔ پس اس قسم کی خواب ابتلاء کی خواب ہوتی ہے اور آزمائش کے طور پر آتی ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ جب اس قسم کی خواب کسی کو آئے یا الہام ہو تو ایسا شخص دیکھے کہ مجھے اس کے مطابق صفات اور طاقتیں بھی دی گئی ہیں یا نہیں۔ اگر نہیں دی گئیں تو میں اس کا مصداق نہیں ہوں بلکہ کوئی اور ہے۔ کیونکہ اگر خدا میرا نام رکھتا تو وہ ضرور اس کے مطابق صفات بھی دیتا۔ مگر یہ جو یونہی مجھے آواز آتی ہے اور دیا دلایا کچھ بھی نہیں جاتا۔ معلوم ہوتا ہے یہ آواز ہی میرے متعلق نہیں بلکہ کوئی اور مخاطب ہے اور آواز میرے کان میں بھی پڑرہی ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو آواز دے کہ لے بھائی کھانا لے اور ایک سننے والا دیکھے کہ اسے کچھ نہیں ملا۔ تو یہ فورا سمجھ لے گا کہ یہ بھائی کہہ کر کسی اور ہی کو پکارا گیا ہے۔ اسی طرح جب خدا کی طرف سے کسی کو کوئی ایسی آواز آئے جس کے مطابق وہ اپنے آپ کو نہ پاتا ہو نہ آپ کو نہ پاتا ہو تو سمجھ لے کہ میرے متعلق نہیں بلکہ کسی اور کے متعلق ہے۔ تیسری قسم خوابوں کی جبیزی ہے یہ ایسے لوگوں کو آتی ہے جو نیک جبیزی خواب اور متقی نہیں ہوتے بلکہ بندہ نفس ہوتے ہیں۔ مگر دوسروں کے الہام اور رویا من کر خواہش کرتے ہیں کہ ہمیں بھی رؤیا ہوں الہام ہوں۔ ان کی سخت خواہش کو دیکھ کر جس طرح کھانا کھاتے ہوئے کتے کو کچھ پھینک دیا جاتا ہے اس طرح ان کو بھی کچھ دے دیا جاتا ہے۔ جیسے چراغ دین جمونی کو الہام ہوا تھا اور وہ سمجھ بیٹھا تھا کہ میں بھی کچھ بن گیا ہوں۔ اور حضرت مسیح موعود کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا تھا۔ ایسے لوگوں کی ایسی ہی حالت ہوتی ہے جیسے ایک بھوکا آکر کسی کو کہے کہ مجھے کچھ کھانے کو دو اور اپنے ہاں ٹھرنے دو۔ مگر جب اسے ٹھرنے دیا جائے تو صبح اٹھ کر مالک مکان کے ملازموں سے لڑنا شروع کر دے کہ مہمانوں کی ایسی ہی عزت کی جاتی ہے تم نے میری خبر ہی نہیں لی۔ یہ لوگ بھی پہلے تو گڑ گڑاتے اور عاجزی کرتے ہیں کہ ہمیں بھی کوئی الہام اور خواب ہو۔ اور جب ہو جاتی ہے تو خدا کے راست بازوں کا مقابلہ شروع کر دیتے ہیں اور شور مچا دیتے ہیں کہ یہ لوگ ہماری خدمت کیوں نہیں کرتے۔ ہماری باتیں کیوں نہیں مانتے ۔ اللہ تعالیٰ چونکہ رحیم کریم ہے اس لئے ان کی خواہش