انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 180 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 180

انوار العلوم جلد ۴ ۱۸۰ حقیقته الرؤيا میں کہتے ہیں۔تے مراں دی دال" یعنی یہ منہ اور مسور کی دال۔تو وہ اگر اپنے آپ کو دیکھے اور اپنی حالت پر نظر کرے تو اسے صاف پتہ لگ جائے کہ مجھے مخاطب نہیں کیا جا رہا بلکہ ان ناموں کے مخاطب کوئی اور ہی ہیں۔کیونکہ وہ صفات جو ان ناموں کے انبیاء میں پائی جاتی ہیں وہ اس میں نہیں ہوتیں۔جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ میں خدا تعالی کا مخاطب نہیں۔ورنہ خدا تعالی ان ناموں کے ساتھ ان ناموں والوں کے علوم اور ان کی صفات مجھے کیوں نہ دیتا۔بعض دفعہ اس قسم کے الہامات حدیث النفس بھی ہوتے ہیں اور شیطانی بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ ایک ایسا ہی شخص حضرت مسیح موعود کے وقت یہاں آیا اور کہنے لگا مجھے خدا کہتا ہے کہ تو محمد ہے تو ابراہیم ہے تو موسی ہے تو عیسی ہے اور مجھے خدا عرش پر اپنی جگہ پر بٹھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود نے کہا کیا جب تمہیں محمد " کہا جاتا ہے تو آنحضرت کے علوم اور صفات بھی م میں آجاتے ہیں اور پھر جب تمہیں عرش پر بٹھایا جاتا ہے تو علم غیب بھی حاصل ہو جاتا ہے۔کہنے لگا ہوتا تو کچھ بھی نہیں یونہی آواز آتی ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا تو یہ شیطان ہے جو تم سے نہسی اور ٹھٹھا کر رہا ہے۔ورنہ اگر خدا کی طرف سے واقعہ میں تمہیں مخاطب کیا جائے تو پھر یہ باتیں کیوں نہ حاصل ہوں۔ہمارے مولوی غلام رسول صاحب را جیکی ہیں۔انہوں نے ایک ، ایسے ہی شخص کو نہایت اچھا جواب دیا تھا۔یہ شخص کہتا کہ مرزا صاحب مسیح تھے اور میں مہدی ہوں۔اس لئے حضرت خلیفہ اول کو میری بیعت کرنی چاہئے نہ کہ مجھے ان کی۔مجھے خدا تعالٰی ہر وقت مخاطب کر کے کہتا ہے کہ او مهدی۔او مهدی۔مولوی صاحب نے اسے کہا کہ دیکھو میں اور تم دونوں بیٹھے ہیں۔اگر کوئی آواز دے۔مولوی صاحب تو کیا تم اس کے پاس جاؤ گے ؟ اس نے کہا نہیں۔انہوں نے کہا کیوں؟ وہ کہنے لگا میں سمجھ لوں گا مجھے نہیں بلایا گیا کیونکہ میں مولوی نہیں ہوں۔انہوں نے کہا جب تمہارے کان میں اد مہدی کی آواز آتی ہے تو اس وقت یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ مجھے نہیں آواز دی گئی بلکہ جو مہدی ہے اسے ہی دی گئی ہے۔وہ نیک آدمی تھا۔یہ سن کر فور امان گیا کہ واقعی میرا قصور تھا۔میں غلطی سے اپنے آپ کو مہدی سمجھنے لگ گیا تھا۔تو لکھا ہے کہ ایک درجہ ایسا آتا ہے کہ انسان کو ایسی جگہ کھڑا کیا جاتا ہے جہاں وہ آواز سن !