انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 178

انوار العلوم جلد ۴ ۱۷۸ حقیقه الرؤيا نہایت تیز اجالے میں لے جانے کے لئے پہلے کم اجالے کی جھلک دکھلائی جائے۔ خدا تعالٰی کی طرف سے ایک درجہ کے بعد جو دوسرا درجہ ملتا ہے ان میں اتناہی فرق ہوتا ہے جتنا اندھیرے اور اجالے میں ہوتا ہے۔ اس لئے احتیاط کی جاتی ہے تاکہ چکا چوند نہ پیدا ہو۔ ساتویں قسم مکالمہ خاص ہے۔ یعنی صرف ان لوگوں کو ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ کے قرب کا مقام حاصل کر چکے ہوتے ہیں اور ہر قسم کے ارتداد اور ابتلاء سے ایسے محفوظ ہو چکے ہوتے ہیں کہ خدا ان کے پیچھے ایک مضبوط دیوار کھینچ دیتا ہے کہ وہ ایک انچ پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور شیطان ان پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔ ان کے آگے پیچھے دائیں بائیں اوپر نیچے خدا کی رحمت ہی رحمت ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں سے خدا جو کلام کرتا ہے وہ مکالمہ خاص کہلاتا ہے ۔ آگے اس کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو غیر ماموروں سے تعلق رکھتی ہے اور دوسری وہ جو ماموروں اور خدا کے نبیوں کے متعلق ہے۔ چیز تو وہ بھی وہی ہوتی ہے جو مأموروں کو دی جاتی ہے لیکن ان میں ضعف اور شدت اور قلت اور کثرت کا فرق ہوتا ہے۔ خواب کے یہ سات درجے ہیں۔ اب میں ان میں سے ہر ایک کے متعلق الگ الگ بتاتا ہوں۔ لیکن پہلے کچھ اور تشریح کر دینا ضروری سمجھتا ہوں تاکہ یہ پتہ لگ سکے کہ فلاں خواب کسی قسم کی ہے۔ تو پہلے میں رحمت کی خواب کے متعلق بتاتا ہوں۔ یہ خواب جیسا کہ میں بتا رحمت کی خواب چکا ہوں۔ ہر مذہب و ملت کے انسان کو آسکتی ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ جس شخص کو آتی ہے اس کی اس میں کسی بڑائی کا ذکر نہیں ہو تا بلکہ محض واقعہ اور خبر کے طور پر ہوتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی خواب میں گوشت ہاتھ میں دیکھے تو اس کا یہ مطلب ہو گا کہ کوئی تکلیف اس پر آئے گی۔ یاران لٹکی ہوئی دیکھے تو یہ مفہوم ہو گا کہ اس کا کوئی عزیز مر جائے گا۔ یا اگر چمکتے ہوئے دانت ہاتھ میں گرتے دیکھے تو کوئی خوشی حاصل ہو گی۔ اور اگر زمین پر گرتے دیکھے تو عزت کا نقصان اور اعزہ کی موت پر دلالت کرے گی۔ یہ اس قسم کی باتیں ہیں کہ جن میں اس کی بڑائی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ تو ان خوابوں میں کسی عظمت اور بڑائی کا ذکر نہیں ہوتا۔ اب سوال ہوتا ہے کہ پھر یہ کیوں ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تا لوگوں کو معلوم ہو تا رہے کہ خدا اپنے بندوں سے کلام کرتا ہے۔ اس قسم کی خواہیں جہاں کسی بڑائی اور عظمت کی خبر نہیں دیتیں وہاں موجب ابتلاء بھی نہیں ہوتیں۔ پھر ان کی ایک اور بھی غرض ہوتی ہے اور وہ