انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 177 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 177

العلوم جلد ۴ 122 حقیقة الرؤيا پڑھ رہی ہیں۔پوچھا یہ کیا؟ کہنے لگیں آج میں آپ کے بتائے ہوئے طریق پر لاحول پڑھ رہی تھی کہ شیطان بندر کی شکل میں آیا اور کہنے لگا کہ تم بچ گئیں۔اگر تم یہ وظیفہ نہ پڑھتیں تو اب میں تم سے فرض چھڑانے والا تھا۔تو شیطان کبھی چالا کی کرتا ہے اور ایک نیکی کی تحریک کرتا ہے۔لیکن اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دراصل اس کے ذریعہ کسی بڑی نیکی سے محروم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے اس لئے یہ بات ضرور مد نظر رکھنی چاہئے۔اب رہ گئیں رحمانی خوا ہیں یہ کئی قسم کی ہوتی ہیں۔حضرت مسیح رحمانی خوابوں کی پہچان موعود نے سہولت اور آسانی سے سمجھانے کے لئے انہیں تین درجوں میں تقسیم کیا ہے۔مگر میں اور زیادہ واضح کرنے کے لئے زیادہ درجوں میں تقسیم کر کے بتا تا ہوں۔میں ان کو سات درجوں میں تقسیم کرتا ہوں۔پہلی قسم کی خواب تو وہ ہوتی ہے جسے رحمت کی خواب کہا جا سکتا ہے۔کیونکہ جیسے بچوں کو عطا کے طور پر کوئی چیز دی جاتی ہے۔اسی طرح یہ بھی عطا کے طور پر دی جاتی ہے۔اور یہ ہر مذہب و ملت کے پیرو کو آجاتی ہے۔اس میں خواب دیکھنے والے کی نہ کوئی بڑائی ہوتی ہے نہ چھٹائی۔نہ عزت نہ ذلت۔دوسری قسم کی خواب ابتلاء کی خواب ہوتی ہے۔یہ آزمائش کے لئے آتی ہے۔تیسری قسم کی وہ خواب ہے جس کا حضرت مسیح موعود کے الہام کے ماتحت میں جبیزی خواب نام رکھتا ہوں۔یہ اسی طرح آتی ہے جس طرح کھانا کھاتے ہوئے کتے کے آگے بھی ٹکڑا ڈال دیا جاتا ہے۔چوتھی قسم کی خواب وہ ہے جس کا نام دلداری کی خواب رکھتا ہوں۔یعنی رکھے ہوئے دل مرہم کے طور پر یا خواہش مند قلب کو سکون کے لئے دکھائی جاتی ہے۔پانچویں قسم کی خواب کا نام تحضیضی خواب رکھتا ہوں۔تخفیض کے معنی کسی کام کے لئے اکسانا اور آمادہ کرنا ہوتا ہے۔یہ چسکہ ڈالنے کے لئے آتی ہے۔چھٹی قسم کی خواب تبشیری خواب ہے۔یہ اس لئے ہوتی ہے کہ جب کسی مؤمن پر خدا کا فضل ہونا ہوتا ہے اور اسے اعلیٰ مقام پر پہنچانا ہوتا ہے تو پہلے اس کے لئے درمیانی دروازہ کھولا جاتا ہے تاکہ یک لخت ایک اعلیٰ مقام کو دیکھ کر حیرت اور استعجاب نہ پیدا ہو اور حواس محل نہ ہوں۔تو یہ اس اعلیٰ درجہ سے مانوس کرنے کے لئے ایسا ہی ہوتا ہے جیسا کہ اندھیرے سے