انوارالعلوم (جلد 4) — Page 179
دم جلد ۴ ۱۷۹ حقیقتها یہ کہ عام طور پر کسی صادق اور راست باز کی تائید میں دکھائی جاتی ہیں تاکہ اس کو قبول کر لیا جائے۔اور یہ بھی رحمت ہی ہے کہ مامور کے قبول کرنے کی اطلاع دی جائے۔دوسرے وہ خواہیں جو ابتلاء کے لئے آتی ہیں۔یہ بہت خطرناک ہوتی ابتلاء کی خواب ہیں۔اور ان کی حقیقت نہ سمجھنے سے اکثر لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔اس لئے اس کو خوب غور سے سنو اور سمجھو۔یہ ایسی خواہیں ہوتی ہیں کہ ایک انسان بظاہر متقی اور نیک ہوتا ہے عبادتیں کرتا ہے۔احکام شریعت پر چلتا ہے۔لیکن ساتھ ہی اس کے دل میں پوشیدہ طور پر اپنی بڑائی کا خیال بھی ہوتا ہے۔اور بعض اوقات یہ خیال ایسا پوشیدہ اور نہاں در نہاں ہوتا ہے کہ وہ خود بھی نہیں جانتا۔تو ایسا انسان بظاہر انکسار کا پتلا نہایت عبادت گزار اور متقی نظر آتا ہے۔مگر اس کے دل کو کے کسی کو نہ میں عجب اور تکبر کی آلائش ہوتی ہے جو بڑھتی رہتی ہے۔جس کی وجہ سے وہ کسی وقت خیال کرنے لگ جاتا ہے کہ میں بھی کچھ ہوں۔میرا بھی کوئی حق ہے۔ایسا انسان جب اپنی ظاہرہ نیکی پر پھولتا اور تکبر میں آتا ہے تو ابتلاء میں ڈالا جاتا ہے۔اس وقت کبھی اسے آواز آتی ہے کہ تو عیسی ہے۔کبھی یہ سنائی دیتا ہے کہ تو موئی ہے۔کبھی یہ کہ تو ابراہیم ہے اور کبھی یہ کہ تو محمد ہے اور آج کل کبھی یہ آواز آجاتی ہے کہ تو مسیح موعود ہے ، اس کا بروز ہے، اس کا موعود ہے۔غرض اس قسم کی آوازیں اسے آنے لگ جاتی ہیں اور وہ خدا ہی کی طرف سے ہوتی ہیں نہ کہ شیطان کی طرف سے۔اور اس وجہ سے بالکل درست ہوتی ہیں۔مگر با وجود است کے ان رؤیا کا آنا یا الہامات کا ہونا ابتلاء کے طور پر ہوتا ہے۔کیوں؟ اس کا جواب جو کچھ صوفیاء نے دیا ہے اور جو نہایت سچا جواب ہے میں آپ کو سناتا ہوں۔فتوحات مکیہ میں محی الدین ابن عربی لکھتے ہیں کہ ایک وقت انسان پر ایسا آتا ہے جب کہ اس کے لئے ترقیات کے دروازے کھلنے والے ہوتے ہیں۔اس وقت اس کی سخت خطر ناک طور پر آزمائش کی جاتی ہے اور بہت کم ہوتے ہیں جو اس میں پورے اترتے ہیں۔اور وہ یہ کہ ایسے انسان کو ایسے مقام پر کھڑا کیا جاتا ہے جہاں سے وہ محمد ابراہیم ، موسی عیسی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ جو کچھ خدا تعالی کلام کرتا ہے وہ بھی سنتا ہے۔اور بعض دفعہ اس سے دھوکا کھا کر اپنے آپ کو مخاطب سمجھ لیتا ہے اور اپنے آپ کو ان ناموں کا مصداق سمجھ لیتا ہے اور اپنی ذات کو مخاطب قرار دے لیتا ہے۔حالا نکہ اگر وہ اپنی ذات پر غور کرے تو اسے معلوم ہو جائے کہ میں کہاں اور یہ نام کہاں۔پنجابی