انوارالعلوم (جلد 4) — Page 131
انوار العلوم جلد ۴ اسما علم حاصل کرو میں سجدہ کیلئے جھک جاتی ہے پھر آپ کیا عذر کرسکتے ہیں۔پس آپ لوگ قرآن کریم سیکھنے کی بہت جلد کوشش کریں اس سے بہتر موقع اور کوئی ہاتھ نہیں آئے گا۔اس وقت تمہارا قرآن کریم کو سیکھنا صرف علم حاصل کرنا نہیں بلکہ روح کی لذت اور سرور کو بھی حاصل کرنا ہے اس لئے تمہارے لئے نہایت ضروری ہے کہ اسے پڑھو اور اس کے مطالب سے آگاہ ہو۔دیکھو ایک شخص تو ایسا ہو جسے نماز پڑھنے میں لذت نہ آتی ہو مگر وہ فرض سمجھ کر پڑھے اور ایک ایسا شخص ہو جسے نماز میں لذت اور سرور بھی آتا ہو ان میں سے پہلا اگر نماز پڑھنا چھوڑ دے گا تو گناہگار ہوگا لیکن اگر دوسرا چھوڑے گا تو بلغم کی طرح کتا قرار دیا جائے گا۔آپ لوگوں کو قرآن کریم پڑھتے اور سنتے وقت لذت آتی ہے اور آپ لوگوں کو پڑھانے والے ایسی عمدگی سے پڑھاتے ہیں کہ جس سے عقل کو ترقی ہوتی ہے اور خدا تعالی کا جلال ظاہر ہوتا ہے اور زندہ خدا کا نقشہ سامنے کھیچ جاتا ہے اس لئے آپ لوگ کوئی عذر نہیں کرسکتے۔کوئی شخص یہ خیال نہ کرے کہ مجھے دوسروں کے علیم قرآن کس طرح حاصل کرنا چاہئے پاس جاکر پڑھنے کی کیا ضرورت ہے اپنے طور پر اپنے گھر ہی سیکھ لوں گا۔جس طرح آنحضرت ﷺ اور حضرت مسیح موعود نے سیکھا میں بھی سیکھ لوں گا اور جس طرح حضرت مسیح موعود نے کہا وگر استاد را نامے نہ دانم که خواندم در دبستان محمد اسی طرح میں بھی کہتا ہوں کہ میں دبستان محمد " میں پڑھنے والا ہوں مجھے کسی استاد کی کیا نی ضرورت ہے۔یہ صحیح ہے کہ وہ دبستان محمد کا ہی پڑھنے والا ہے کیونکہ اس کا استاد وہیں کا پڑھا ہوا ہے مگر یہ شیطانی وسوسہ اور دھوکا ہوگا کہ کوئی کہے میں اپنے آپ ہی پڑھ لوں گا۔دیکھو جب تک کوئی عمارت تیار نہیں ہو چکی ہوتی اس وقت تک اس کے اوپر پاڑ کے ذریعہ چڑھتے ہیں لیکن جب تیار ہو جاتی ہے اور سیڑھیاں بن جاتی ہیں تو پھر پاڑ کے ذریعہ نہیں چڑھتے بلکہ سیڑھیوں کے ذریعے چڑھتے ہیں۔رسول کریم ﷺ کے وقت کوئی ایسی شریعت نہ تھی جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا اس لئے اس وقت اسی بات کی ضرورت تھی کہ ایک ایسا نبی بھیجا جائے جو کسی شریعت کا پیرو نہ ہو بلکہ اس کے ذریعہ شریعت کی عمارت تیار کی