انوارالعلوم (جلد 4) — Page 458
العلوم جلد ۴۵۸ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے در حقیقت جو مشکلات کو مد نظر رکھ کر جو فیصلہ کیا جائے وہ حقیقی فیصلہ ہوتا ہے فیصلہ بغیر راه میں آنے والی مشکلات کو مد نظر رکھنے کے کیا جاوے وہ حقیقی فیصلہ نہیں ہے۔قرآن کریم نے اس بات کو نہایت لطیف طور پر بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے:- أحَسِبَ النَّاسُ أَنْ تُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت : (٣) کہ کیا لوگوں نے خیال کر لیا ہے کہ ان کے صرف اتنا کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لے آئے ان کو چھوڑ دیا جائے گا اور ان کا امتحان نہیں لیا جائے گا۔فتنہ کے معنے ہوتے ہیں آگ میں ڈال کر کھوٹے کھرے کو پرکھنا۔جیسا کہ سونا آگ میں ڈالا جاتا ہے۔پس اسی طرح ایک شخص اگر ایمان کا دعوی کرتا ہے تو اس کو ایک آگ میں ڈالا جاتا ہے جو تعلقات اور جذبات کی آگ ہوتی ہے اگر اس آگ میں پڑ کر وہ سلامت نکلے ، خدا تعالی فرماتا ہے تب ہم اس کو مؤمن کہیں گے۔یہ فتنہ ( آزمائش) میں پڑنے کا معاملہ آپ سے ولایت میں نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ وہاں پر وہ لوگ نہ تھے جن سے آپ کا مذہبی تعلق ہو تا، نہ وہ چیزیں تھیں جن کو علائق کہتے ہیں اور نہ آپ کے جذبات ابھارنے کے سامان تھے کیونکہ وہاں کے لوگوں کے نزدیک جیسا اسلام غیر مذہب تھا ویسا ہی ہندوؤں کے مختلف مذاہب غیر۔اور اگر وہ لوگ آپ سے نفرت کرتے بھی تو بھی آپ کہہ سکتے تھے کہ ان کی نفرت میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتی کیونکہ وہاں آپ کی اقامت عارضی تھی لیکن یہاں یہ بات نہیں کیونکہ یہاں پر وہ لوگ بھی ہیں جن سے آپ کا مذہبی اتحاد رہا ہے اور پھر آپ کے والد صاحب ہیں، بھائی بہن ہیں، دوسرے رشتہ دار ہیں، بیوی ہے۔یہ وہ تمام باتیں ہیں جو عادات قدیمہ اور جذبات پر اثر ڈالنے والی ہوتی ہیں۔ان مختلف کشوں کے مقابلہ میں اگر آپ اسی نتیجہ پر قائم رہیں جو آپ نے نکالا ہے تو وہ درست ہو گا۔ولایت میں تو یہ بات تھی کہ وہاں آپ خواہ کتنا ہی لمبا عرصہ رہے لیکن آپ کا یہ کبھی خیال نہیں ہوا ہو گا کہ وہ آپ کا وطن ہے اس لئے وہاں کے لوگوں کی مخالفت پر آپ کہہ سکتے تھے کہ ہم اپنے وطن میں چلے جائیں گے یا کسی اور جگہ چلے جائیں گے مگر یہاں کے لوگوں کی مخالفت پر آپ یہ کہہ کر دل کو تسلی نہیں دے سکتے کہ میں یہاں سے چلا جاؤں گا کیونکہ آپ کو اسی ملک میں رہنا ہو گا۔پس یہ مختلف فتنے ہیں، مختلف آزمائشیں ہیں اور مختلف امتحان ہیں۔اگر آپ ان میں پورے اتریں تو البتہ آپ کا فیصلہ درست ہو گا۔مسلمان سینکڑوں