انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 459

وم جلد " ۴۵۹ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی ہے برس سے چلے آتے ہیں لیکن اسی قاعدہ کے مطابق جب ان کا امتحان لیا گیا تو بہت سے رہ گئے۔رسول کریم کے وقت میں عورتوں تک کو ایمان کا اظہار کرنے کی وجہ سے مخالفین کی طرف سے طرح طرح کی مصیبتیں پہنچائی گئیں لیکن انہوں نے ان تمام کشوں اور تمام علاقوں اور جذبوں کو اسلام کے مقابلہ میں چھوڑ دیا کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ اسلام حق ہے۔بہت دفعہ ہوتا ہے کہ انسان خیال کرتا ہے امتحان انسان پر اس کی حقیقت کھولتا ہے کہ میں ایک بات مانتا ہوں لیکن جب امتحان آکر پڑتا ہے تو رہ جاتا ہے کیونکہ پہلے ان تمام باتوں کا جو اس بات کے ماننے میں علائق اور جذبات کی صورت میں مانع ہوتی ہیں اس کو علم نہیں ہوتا یا اگر ہوتا ہے تو وہ چیزیں اس کے سامنے نہیں ہو تیں اور جب سامنے آجاتی ہیں تو پھر اس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس کا پہلا خیال کمزور تھا اور ماننے کا دعویٰ درست نہ تھا۔بہت لوگ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے ملک میں رہتے ہیں مگر ان کو معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں اپنے ملک سے محبت ہے لیکن جب ایک شخص کو اس وطن سے علیحدہ کیا جاتا ہے اور حکماً کیا جاتا ہے تو وہ ان جگہوں کو دیکھتا ہے ، ان عمارتوں کو دیکھتا ہے، ان درختوں کو دیکھتا ہے اور دیکھ دیکھ کر رو دیتا ہے۔اس وقت اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اسے اپنے وطن سے کیسی محبت تھی۔یہ حالت معمولی لوگوں کی ہی نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے علم والوں کی ہوتی ہے۔نپولین کے متعلق لکھا ہے کہ جب اس کو انگریزوں نے ماخوذ کرلیا اور اس کو لے چلے تو بادل پھٹا اور اس کو فرانس نظر آیا تو اس نے ٹوپی اتار لی اور کہا " الوداع اے فرانس" نپولین کے اس قول کا یہ اثر پڑا کہ وہ انگریز افسر جو اس کے نگہبان تھے انہوں نے بھی اپنی ٹوپیاں اتارلیں۔فرانس کی محبت کا اظہار جس طرح اس وقت نپولین سے ہوا جب وہ فرانس میں ہوتا ہوگا اس کو کبھی محسوس بھی نہیں ہوا ہو گا کہ اس کو اس قدر فرانس سے محبت ہے۔ہمارے ملک کا ایک مشہور بادشاہ گزرا ہے جب اس کو جلا وطن کیا گیا تو اس نے وطن کی محبت کا اظہار اس شعر میں کیا کہ - یا تو ہم پھرتے تھے ان میں یا ہوا یہ انقلاب پھرتے ہیں آنکھوں کے آگے کوچہ ہائے لکھنو یوں تو وطن سے باہر عموماً لوگ سیر کے لئے جاتے ہیں لیکن جب محکماً ان کو بھیجا جائے اور