انوارالعلوم (جلد 4) — Page 457
دم چند ۴ ۴۵۷ آزمائش کے بعد ایمان کی حقیقت کھلتی۔خیالات کی طرف جن کو آپ ترک کر چکے ہیں۔اس ملک میں آکر بھی اگر تمام علاقوں اور جذبات کے مقابلہ حقیقی تحقیقات اب ہوگی میں آپ کی پہلی تحقیق ثابت اور قائم رہی تب آپ کی تحقیق حقیقی تحقیق کہلا سکتی ہے اور آپ کا ایمان پختہ ایمان ہو گا۔آپ کا پہلا نتیجہ اور فیصلہ میرے نزدیک یقینی نتیجہ نہیں کیونکہ جس وقت آپ نے وہ نتیجہ نکالا تھا اس وقت آپ کے مقابلہ میں یہ جذبات اور علائق نہ تھے جو اب ہیں۔اس لئے وہی نتیجہ دائمی نتیجہ ہو گا جس پر ان علائق اور جذبات کے مقابلہ میں آپ پہنچیں گے۔یک طرفہ فیصلہ te اگر آپ ان علائق اور ان جذبات کا مقابلہ کر سکے اور عادات قدیمہ پر غالب آگئے تب آپ کا نتیجہ اور فیصلہ درست مانا جائے گا لیکن جب تک یہ چیزیں آپ کے آگے نہ تھیں اس وقت کا فیصلہ تو اس ضرب المثل کا مصداق تھا کہ " تنها پیش قاضی روی راضی آئی (یہاں پر حضرت خلیفۃ المسیح نے متبسم ہو کر فرمایا کہ ) یہاں تو معاملہ اس کے بھی برعکس ہے کیونکہ آپ تنہا پیش قاضی نہیں گئے۔بلکہ (قاضی عبداللہ صاحب کی طرف دیکھ کر جو پاس ہی بیٹھے تھے کہا کہ قاضی آپ کے پاس گیا تھا دوسرے فریق کی سنی ہی نہیں۔ہمارے مبلغوں کی باتیں سنیں اور آپ نے سمجھا کہ یہ باتیں معقول ہیں۔آپ نے ان کو قبول کر لیا لیکن ان کے مقابلہ میں دوسرا کوئی سنانے والا نہ تھا۔اس لئے یہ فیصلہ یک طرفہ ہے پہلی باتیں جو آپ نے سنی ہوئی تھیں وہ اس عمر کی تھیں جس وقت کی سنی ہوئی باتیں چنداں یاد نہیں رہتیں۔پس اس وقت مقابلہ نہ تھا۔ہمارے مبلغوں نے آپ کو جو کچھ سنا دیا آپ نے اس کے مطابق فیصلہ کر لیا کہ یہ باتیں معقول ہیں، درست ہیں۔اب آپ یہاں آئے ہیں اور یہاں فریق مخالف کے بھی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے پاس بھی اپنے مذہب کی صداقت کے دلائل ہیں۔اس لئے یہاں مقابلہ ہو گا پھر اس وقت فیلنگز آپ کے سد راہ نہ تھے یہاں فیلنگی بھی ہیں پس وہ فیصلہ آپ کا یک طرفہ تھا اور اس فیصلہ کے قبول کرنے میں کوئی روک نہ تھی مگر اب کا فیصلہ زیادہ غور اور فکر کا نتیجہ ہو گا اور تمام روکوں کو یہ نظر رکھ کر ہو گا اگر اب بھی اسی پہلے فیصلہ پر قائم رہے تب معلوم ہو گا کہ آپ نے پہلا فیصلہ بھی خوب سوچ سمجھ کر کیا تھا ورنہ ایک جلد بازی کا فیصلہ سمجھا جاوے گا۔