انوارالعلوم (جلد 4) — Page 216
انوار العلوم جلد ۴ ۲۱۶ حقیقت الام نکل آیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی مادری زبان اردو نہیں مگر آپ تعلیم یافتہ ہیں۔اور میرے نزدیک اس سادہ عبارت کے سمجھنے کی لیاقت رکھتے ہیں۔پس آپ کا اس عبارت کے مضمون کو بدلنا سخت حیرت میں ڈالتا ہے کہ آپ کے اس فعل کو کیا سمجھوں۔ایک طرف اظہار ہمدردی اس امر سے روکتا ہے کہ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ (المائدة : (۱۴) کی جماعت میں آپ کو داخل کر دوں۔دوسری طرف عبارت کی وضاحت اور سادگی کو دیکھتے ہوئے آپ کا اس مطلب کو بگاڑنا کسی اور نتیجہ کے نکالنے سے روکتا ہے۔کیا آپ اس امر کے قائل ہیں کہ نہیں کہ تقویٰ کے ہزاروں مدارج ہیں۔جیسا کہ آیت اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُم (الحجرات : ۱۴) سے ثابت ہے۔یعنی خدا تعالی کے نزدیک تم میں سے زیادہ بزرگ وہ ہے جو زیادہ متقی ہے یا آپ اپنے تقویٰ اور نبیوں کے تقوی کو ایک جیسا سمجھتے ہیں۔کیا آپ اپنے آپ کو ویسا ہی متقی خیال کرتے ہیں جیسا کہ حضرت عیسی حضرت موسیٰ اور آنحضرت ا متقی تھے یا ان کی نسبت آپ اپنے تقوی میں کچھ کمی اور نقص یقین کرتے ہیں۔اگر کمی کا اقرار کرتے ہیں تو کیا آپ اپنے آپ کو غیر متقی یا کم سے کم نا کامل متقی سمجھتے ہیں۔یا حضرت ابو بکر یا حضرت عمرؓ کو اسی لحاظ سے ناکامل متقی سمجھتے ہیں۔کیا آیت تِلكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ ( البقرة : ۲۵۴) اور إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اتفكُمْ کو ملا کر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ خود انبیاء میں بھی تقوی کے مدارج میں فرق ہوتا ہے۔کمال کے بھی ہزاروں درجے ہیں۔حضرت عیسی بھی کامل متقی تھے اور حضرت موسیٰ بھی۔مگر کیا آنحضرت ا تقویٰ میں ان کے برابر ہی تھے ؟ اگر زیادہ تھے تو کیا حضرت موسیٰ و عیسیٰ علیہما السلام تقویٰ میں ناقص تھے ؟ مولوی صاحب! میں نے تو یہ لکھا ہے کہ نبوت کے مقام کے حاصل کرنے کے لئے جس تقویٰ اور عرفان کی شرط ہے وہ ان لوگوں میں نہ تھا۔یہ تو نہیں لکھا کہ متقی اور متقیوں کے سردار بننے کے لئے جس تقویٰ کی شرط ہے وہ ان میں نہ تھا۔تقویٰ کے مختلف مدارج میں سے کسی درجہ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے یہ تو نتیجہ نہیں نکلتا کہ وہ تقویٰ میں کمزور تھے۔اس سے تو صرف یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اس خاص درجہ کو وہ نہیں پہنچے۔اور کیا آپ کا یہ مذہب نہیں کہ جس درجہ ایمان پر رسول کریم تھے اس پر دیگر لوگ نہ تھے۔کیا خود رسول کریم الله نہیں فرماتے قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي اتْقَاكُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقَكُمْ وَ ابركُمْ (بخاری کتاب ! ركم (بخاری کتاب الاعتصام باب نهى النبي ﷺ عن التحريم الا ما يعرف باحته، یعنی تم جانتے ہو کہ میں تم سب میں سے زیادہ متقی، زیادہ عہدوں کو پورا کرنے والا اور زیادہ نیک ہوں۔اور کیا