انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 215

ار العلوم جلد من ۲۱۵ حقیقت الامر رہے۔اب بتائیے کہ کیا آپ ہی کے الفاظ کو بدل کر کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ جب کہ باوجود اس کے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو مسیح موعود کہا آپ بارہ برس تک اپنے دعوی کو نہ سمجھ سکے بلکہ بجائے مسیح موعود کے مسیح موعود سے مشابہت رکھنے کے مدعی رہے تو اور کوئی ان کے ودعوٹی کو نہ سمجھنے کی وجہ سے کس طرح قابل مؤاخذہ ہو سکتا ہے۔مولوی صاحب! حضرت صاحب نے کبھی اپنے الہامات کو نفسانی یا شیطانی نہیں سمجھا۔آپ کو اگر خیال تھا تو صرف ان کے معنے کرنے کے متعلق۔اور یہ خیال بھی صرف اس وقت تک رہا جب تک کہ تواتر اور صراحت پیدا نہ ہوئی۔اس کے بعد کوئی خیال نہ رہا۔لیکن کیا آپ کے مخالفوں کا یہی حال ہے۔ان کو تو الہامات کے شیطانی یا نفسانی ہونے کا یقین ہے۔اگر آپ کہیں کہ اگر کوئی شخص الہامات کو رحمانی تو مانے مگر اور تاویل کرے تو اس کا جواب یہ ہے کہ بعد صراحت اور تواتر کے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود لکھ چکے ہیں اب تو اتر اور صراحت پیدا ہو چکی ہے۔مولوی صاحب! آپ نے دوسرا قابل توجہ امر یہ لکھا ہے کہ میں نے جو حقیقتہ النبوۃ میں یہ لکھا ہے کہ ” نبوت ایمان کا ہی ایک اعلیٰ مرتبہ ہے اور تقویٰ میں ترقی کرتے کرتے انسان اس مرتبہ کو پہنچ جاتا ہے جسے نبی کہتے ہیں۔" اور اس طرح یہ لکھا ہے۔کہ "صدیق کی فطرت نبیوں کی سی فطرت ہوتی ہے۔اور اس کے کام نبیوں کے سے ہوتے ہیں۔لیکن کسی قدر کمی اور نقص کی وجہ سے وہ درجہ نبوت سے روکا جاتا ہے۔اس میں اسلام اور رسول اللہ ا کی ہتک ہے۔کیونکہ اس سے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ تیرہ سو سال میں آپ کا ایک شاگرد بھی کامل ایمان کے مرتبہ کو حاصل نہ کر سکا کامل متقی نہ بن سکا۔مولوی صاحب! اگر آپ ابتداء میں ہمدردی کا اس قدر دعوی نہ کرتے تو میں آپ کے اس فعل کو تلبیس اور تدلیس سمجھتا۔مگر اس دعوئی اخلاص کے بعد میرا خیال ہے کہ اگر یہ کسی بدنیتی کا نتیجہ نہیں تو حد سے زیادہ ہمدردی کا کرشمہ ضرور ہے کیونکہ آپ نے میری صریح عبارت سے اور وہ بھی اس عبارت کو نقل کر کے ایسے نتائج نکالے ہیں کہ جن کو ہر عظمند انسان غلط اور خلاف منشاء راقم کے گا۔میری عبارت کا تو صاف مطلب ہے جس کے سمجھنے کے لئے کسی خاص لیاقت کی ضرورت نہیں کہ تقوی ترقی کرتے کرتے جب ایک خاص حد تک پہنچ جاتا ہے تو اس وقت انسان کو نبوت کا مقام حاصل ہوتا ہے۔اس میں دوسرے لوگوں کے ناقص الایمان ہونے یا کامل نہ ہونے کا نتیجہ کہاں سے