انوارالعلوم (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 709

انوارالعلوم (جلد 4) — Page 217

ار العلوم جلد ۲۱۷ حقیقت الام آپ تمام مؤمنوں اور متقیوں کو ایمان اور تقویٰ میں ایک ہی درجہ کا مؤمن اور متقی خیال کرتے ہیں۔اگر نہیں تو پھر اس اعتراض کے کیا معنے ہوئے؟ مولوی صاحب اگر آپ غور فرمائیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ یہ اعتراض آپ پر پڑتا ہے نہ کہ مجھ پر۔کیونکہ آپ کے عقیدہ کے ماتحت تو رسول کریم ای کے شاگردوں میں سے ایک بھی اس درجہ کو نہیں پہنچا کہ خدا تعالیٰ کا فضل نبوت کے انعام کے ذریعہ سے اس پر نازل ہوتا اور میرے نزدیک ایک شاگرد اس درجہ تک پہنچا ہے۔تو کیا ایک کا ایک خاص مقام تک پہنچنا رسول کریم ﷺ کے علو مرتبت پر دلالت کرتا ہے یا ایک کا نبی اس مرتبہ تک نہ پہنچنا۔اسی طرح اگر آپ غور فرما دیں گے تو جو طریق دلیل آپ نے اختیار کیا ہے اس سے تو ایک دشمن اسلام نعوذ باللہ شاید یہ بھی کہہ دے گا کہ مولانا ! اسلام عجیب رحمت ہے کہ اسلام سے پہلے تو محمد رسول اللہ جیسا انسان پیدا ہو اور اسلام کے بعد کوئی بھی ویسا انسان نہ ہو۔کیونکہ اسلام تو آنحضرت لائے ہیں اور جس وجہ سے آپ کو اس عہدہ کے لئے چنا گیا وہ اسلام کے آنے سے پہلے کے اعمال و اخلاص ہیں۔مگر کیا یہ طریق استدلال درست ہو گا؟ نبوت بے شک ایک موہبت ہے مگر اس موہت کے جذب کرنے کے لئے فطرت کا صحیح استعمال اور انسانی اعمال و اخلاص بھی شرط ہیں۔آپ اس نکتہ پر غور کریں تو آپ کی سب مشکلات خود بخود حل ہو جائیں گی۔اس تشریح کے بعد آپ کو معلوم ہو گا (اگر پہلے واقعہ میں آپ کو میری عبارت سے دھوکا لگ گیا تھا کہ میری عبارت سے کفارہ کی تائید نہیں بلکہ اس کا رد ہوتا ہے۔کیونکہ کفارہ اس عقیدہ کا نتیجہ ہے کہ انسان کامل تقویٰ کو حاصل نہیں کر سکتا اور میرا یہ عقیدہ ہے کہ نہ صرف انسان کامل تقویٰ کو حاصل کر سکتا ہے بلکہ ترقی کر کے اس درجہ کو پہنچ جاتا ہے کہ اس کی اتباع کے طفیل دو سروں کو بھی اس درجہ کا تقویٰ حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ نبیوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔" مولوی صاحب! آپ نے یہ بھی زور دیا ہے کہ میں اپنی غلطی کا اقرار کروں۔مگر الحمد للہ کہ گو میں معصوم عن الخطاء نہیں ہوں اس معاملہ میں میں نے غلطی نہیں کھائی۔مگر آپ کا اس بات پر زور دینا کہ چونکہ میں معصوم عن الخطاء نہیں اس لئے اپنی غلطی کا اقرار کروں ایک عجیب مسئلہ ہے۔آپ نے اس وقت تک کس قدر غلطیوں کا اقرار کیا ہے۔آپ کے نزدیک ہر وہ