انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 25 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 25

۲۵ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب بات یہ ہے کہ لوگوں نے کفر و اسلام کے مسئلہ کو سمجھا ہی نہیں اگر وہ روحانی معاملات کو جسمانی معاملات پر عرض کر کے ان کی صداقت معلوم کرتے تو ان پر حق کھل جاتا اور صداقت روشن ہو جاتی۔قرآن کریم کی یہ طرز ہے کہ وہ روحانی سلسلہ کا جسمانی سلسلہ سے مقابلہ کر کے اپنی پیش کردہ تعلیم کی صداقت ظاہر کرتا ہے اور کسی بات کی صداقت ثابت کرنے کے لئے یہ طریق نہایت عمدہ ہے کیونکہ جسمانی سلسلہ کی نسبت تو کسی کو شک ہی نہیں ہو سکتا کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور جب کہ کسی مذہب کو ان قواعد کے مطابق ثابت کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے جسمانیات میں جاری کئے ہیں تو اس میں کوئی شک نہیں رہ جاتا کہ وہ مذہب اسی خدا کی طرف سے ہے جو دنیا کا خالق ہے۔اگر ہم مسئلہ کفر کو اسی رنگ میں دیکھیں تو نہایت آسانی سے حل ہو جاتا ہے کفر بیماری ہے اور اسلام صحت کا نام۔ہم دیکھتے ہیں کہ ایک حد تک انسان کے اندر بیماری کا مادہ ہوتے ہوئے بھی وہ تندرست کہلاتا ہے۔کیونکہ دنیا میں اکثر انسان جو تندرست کہلاتے ہیں ان کی صحت میں بھی خفیف خفیف نقص ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے ہم ان کو بیمار نہیں کہہ دیتے۔اسی طرح ہر بیمار میں ایک حد تک صحت کا مادہ بھی ہوتا ہے لیکن اس کی وجہ سے ہم اسے تندرست نہیں کہتے۔تندرست اسی کو کہتے ہیں جس کے سب اعضاء رئیسہ بیماری سے بچے ہوئے ہوں یا اس کے جسم پر بیماری غالب نہ آگئی ہو۔اور بیمار اسے کہتے ہیں جس کے جسم پر بیماری غالب آگئی ہو یا اس کے اعضاء رئیسہ میں سے کسی پر اسے غلبہ حاصل ہو گیا ہو۔کفر و اسلام کا بھی یہی حال ہے ایک شخص باوجود اس کے کہ اس میں بعض گناہ پائے جاتے ہوں مسلمان کہلاتا ہے اور مسلمان اس لئے کہ اس کی روحانیت پر گناہ غالب نہیں آگیا۔اور جب وہی گناہ غالب آجاتا ہے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اسی طرح ایسا شخص بھی جو بہت سے مسائل میں حق پر ہو لیکن ایک اہم مسئلہ میں جو روحانی سلسلہ کے اعضاء رئیسہ میں شامل ہو حق پر نہ ہو کافر کہلاتا ہے۔پہلی بات کی مثال میں وہر یہ پیش کئے جاسکتے ہیں کہ ان کے سب جسم پر بیماری کو غلبہ حاصل ہے اور وہ مذہب کے کسی اصل کو بھی قبول نہیں کرتے پھر برہمو ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو قبول کرتے ہیں لیکن آگے الہام اور نبیوں کو قبول نہیں کرتے۔ان کی روحانیت کا گویا ایک عضو درست ہے۔ہے لیکن باقی بیمار ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے وَمَنْ يَكْفُرُ بِاللهِ وَ ملئِكَتِهِ وَ كتبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَّا بَعِيدًا۔(النساء : ۱۳۷) اور