انوارالعلوم (جلد 3) — Page 26
انوار العلوم جلد - ۴۳ ۲۶ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب برہمو ان باتوں میں سے چاروں باتوں کا انکار کرتے ہیں۔پھر مشرکین عرب ہیں جو خدا اور ملائکہ کو تو مانتے تھے مگر اس کے نبیوں اور کتابوں اور بعث بعد الموت کے منکر تھے اس کے بعد ہندو ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ ، ملائکہ الہام ، رسولوں اور بحث بعد الموت کے قائل ہیں لیکن صرف ابتدائی زمانہ کی ہدایت کے سوا اور سب ہدایتیوں کے منکر ہیں۔پھر یہود ہیں ان میں سے دو گروہ ہیں ایک وہ جو سب مسائل کو قبول کرتے ہیں۔لیکن نبیوں میں سے دو نبیوں کے منکر ہیں اور ایک ان کا گروہ وہ ہے جو علاوہ ان دو نبیوں کے انکار کے بعث بعد الموت کا بھی قائل نہیں۔آخر میں مسیحیوں کا نمبر آتا ہے کہ یہ سب سے زیادہ اسلام کے قریب ہیں اور سب باتوں کو قبول کرتے ہیں۔صرف نبیوں میں ہمارے آنحضرت ا کو قبول نہیں کرتے لیکن یہ بھی کافر ہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جو شرایط اسلام مقرر فرمائی ہیں کہ اللہ تعالی پر ایمان ہو۔ملائکہ پر ایمان ہو سب کتب پر ایمان ہو۔بعث بعد الموت پر ایمان ہو۔ان میں سے ایک شرط ان میں پورے طور پر نہیں پائی جاتی یعنی وہ سب نبیوں پر ایمان نہیں لاتے بلکہ خاتم النبین آنحضرت کے منکر ہیں۔اب آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کوئی شخص خدا تعالی کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا جاتا ہے تو جو مسلمان کہلانے والے لوگ اس کا انکار کرتے ہیں وہ باوجود دیگر سب مذاہب کی نسبت اس کے قریب ہونے کے ایک شرط کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے بیماروں میں ہی شامل ہوں گے کیونکہ اعضاء رئیسہ میں سے ان کا ایک عضو بیمار ہے۔اب جس شخص کے خیال میں ایک دوسرے شخص میں مذکور بالا قاعدہ کے ماتحت جو خود قرآن کریم نے بتایا ہے کوئی نقص پایا جاتا ہے اور وہ اسے کافر کہنے پر مجبور ہے۔کیونکہ وہ دیکھتا ہے کہ اس میں ایک ایسی بیماری پیدا ہو گئی ہے جس کی وجہ سے وہ بیماروں میں شامل ہونے کے لائق ہے اس شخص کو اس پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں اس کا حق ہے کہ اس کی غلطی اسے سمجھائے اور بتائے کہ مجھ میں سب شرائط اسلام پائی جاتی ہیں۔پس بجائے مجھے جو پورا مسلمان ہوں کافر کہنے کے تو اپنے اسلام کی اصلاح کر لیکن اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اسے یہ کے کہ تو اپنے عقیدہ کو حق سمجھتے ہوئے مجھے کافر کیوں خیال کرتا ہے۔کافر کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ وہ اصول مسائل میں سے سب یا بعض یا ایک مسئلہ کا انکار کرتا ہے اور جو شخص کسی انسان کی نسبت ایسا خیال کرتا ہے وہ اسے کا فر خیال کرنے پر مجبور ہے اور اگر وہ اسے مسلم ہی سمجھتا ہے تو اسے اس کے خیالات کو قبول کر لینا چاہئے اور اپنے خیالات کو ترک کرنا چاہئے۔