انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 24 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 24

۲۴ ایک صاحب کے پانچ سوالوں کا جواب مشہور ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں آتا۔جو شخص مسیح موعود کو سچا مان لے اور اسے یہ بھی یقین ہو جائے کہ اس کے منکر کافر ہیں تو گو وہ اپنی احمدیت کو ظاہر کرے یا نہ کرے اور لوگوں میں غیر احمدی مشہور ہو تب بھی اپنے دل میں تو اسے غیر احمدیوں کو کافر ہی سمجھنا پڑے گا۔اور اگر ایک شخص حضرت مسیح موعود کے منکروں کو کافر خیال نہیں کرتا تو خواہ وہ اپنی احمدیت کا کتنا ہی اعلان کرے غیر احمدیوں کو کافر کہنے پر مجبور نہیں کیونکہ کسی چیز کے علی الاعلان کہہ دینے سے اس کے منکروں پر کفر کا فتویٰ نہیں لگ جاتا۔بلکہ صرف اسی چیز کے منکروں پر کفر کا فتویٰ لگتا ہے جس کا انکار واقعہ میں کفر ہو۔اب رہا اس سوال کا دوسرا پہلو اور وہ یہ کہ آپ کے احمدی مشہور ہونے پر لوگ آپ کو کافر کہیں گے۔سو اس کا جواب یہ ہے کہ آپ کے اسلام پر دوسروں کے کافر کہنے یا مسلمان کہنے کا کیا اثر پڑتا ہے حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان و دیگر صحابہ کرام کو مسلمانوں کی ایک جماعت منافق کہتی ہے۔نعوذ باللہ من ذالک۔اور ان کا خیال یہ ہے کہ یہ لوگ بچے دل سے اسلام میں داخل نہ ہوئے تھے بلکہ صرف اسلام کا اظہار کرتے تھے اور ایسا منافق در حقیقت کا فر ہی ہوتا ہے لیکن کیا ان لوگوں کے ایسا کہہ دینے سے یہ بزرگ کافر بن جاتے ہیں یا ان کا کوئی نقصان ہو جاتا ہے پھر ان کے بعد جس قدر بزرگ ہوئے ہیں قریباً سب پر کفر کا فتویٰ لگا۔سید عبد القادر جیلانی پر بھی کفر کا فتویٰ لگایا گیا اور بڑے بڑے مولویوں نے اس پر اپنی مہریں لگا ئیں۔اور آپ کا نام نعوذ باللہ من ذالک ابلیس رکھا۔مجدد الف ثانی احمد سرہندی " پر بھی کفر کا فتویٰ لگا۔جنید بغدادی اور شبلی " بھی کافر قرار دیئے گئے لیکن کیا ان لوگوں نے اپنے عقائد کو اس ڈر سے کہ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں چھپا لیا۔اور کیا لوگوں کے کافر کہنے سے وہ واقعہ میں کافر ہو گئے یا ان کے دین میں کوئی نقص پیدا ہو گیا۔آج تو سنی شیعوں کو اور شیعہ سنیوں کو۔اور یہ دونوں خوارج کو اسلام سے باہر خیال کرتے ہیں۔اس وقت ہندوستان میں کوئی ایسا فرقہ نہیں جس کے پیروان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا۔لیکن کسی کے دوسرے کو کافر کہنے سے اس کے مذہب میں کوئی نقص نہیں آجاتا۔نقص تو تبھی آتا ہے جب واقعہ میں کوئی کفر کا عقیدہ انسان کے اندر پیدا ہو جائے۔پس لوگوں کے کافر کہنے سے خوف کھا کر ایک حق کو قبول نہ کرنا کسی نفع کا باعث نہیں ہو سکتا۔اگر ایک شخص مسلمان ہو اور ساری دنیا اسے کافر کے تو وہ کافر نہیں ہو جاتا اور اگر ایک شخص کافر ہو اور سب دنیا اسے مسلمان کہے تو وہ مسلمان نہیں ہو جاتا۔