انوارالعلوم (جلد 3) — Page 16
انوار العلوم جلد - ۳ 14 چند غلط فہمیوں کا ازالہ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ تریاق القلوب کو اکتوبر ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے لیکن در حقیقت وہ ۱۸۹۹ء کے دسمبر میں تیار ہو چکی تھی۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب کے حوالہ کو ریویو کے حوالہ سے جو جون ۱۹۰۲ء کا ہے منسوخ قرار دیا ہے حالانکہ تاریخ اشاعت کے لحاظ سے تریاق القلوب بعد کی ہے اور ریویو پہلے کا۔پس حضرت مسیح موعود کا اس عقیدہ کو جو ریویو میں ظاہر فرمایا ہے ناسخ قرار دیتا اس کا جو تریاق القلوب میں ہے اس بات کا ثبوت ہے کہ تریاق القلوب پہلے کی لکھی ہوئی ہے۔اور جب ہم اس کتاب کو دیکھتے ہیں تو کتاب کے خاتمہ سے صرف بائیں صفحے پہلے لکھا ہوا ہے کہ آج ۵ - دسمبر ۱۸۹۹ء کو ہم۔مضمون لکھ رہے ہیں جس سے صاف ثابت ہے کہ یہ کتاب ۱۸۹۹ء کو لکھی گئی گو شائع ۱۹۰۲ء میں ہوئی ( مفصل دیکھو حقیقۃ النبوۃ ) پس جناب مولوی صاحب کا تریاق القلوب سے یہ سند پکڑنا کہ وہ ۱۹۰۲ء میں شائع ہوئی ہے اور اس سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح موعود غیر نبی تھے درست نہیں کیونکہ وہ در حقیقت ۱۹۰۱ء سے پہلے کی ہے۔میں اس جگہ اس بات کا جواب دینا بھی ضروری خیال کرتا ہوں کہ مولوی صاحب نے بعض حوالوں سے جو یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت مسیح موعود اپنے آپ کو مجازی نبی کہتے ہیں جس سے معلوم ہوا کہ آپ نبی نہ تھے (اور بتانا چاہتا ہوں کہ) یہ بات بھی ایک غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔کیونکہ مجازی کا لفظ حقیقی کے مقابلہ میں ہوتا ہے اور حضرت مسیح موعود نے خود ہی حقیقی نبی کے یہ معنی کر دیئے ہیں کہ جو شریعت جدیدہ لائے پس مجازی کے صرف یہ معنی ہوں گے کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے نہ یہ کہ آپ نبی ہی نہیں۔آپ نے عوام کو ان کے اپنے عقائد کے مطابق نبوت کا مسئلہ سمجھانے کے لئے جو اصطلاح قرار دی ہے اس کے رو سے آپ حقیقی نبی نہیں بلکہ مجازی نبی ہیں۔لیکن قرآن کریم نے نبی کی جو تعریف کی ہے اس کی رو سے آپ نبی ہیں اور خود آپ نے ایک غلطی کے ازالہ میں لکھا ہے کہ ”جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہوں گے بالضرور اس پر مطابق آیت فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ کے صادق آئے گا "۔ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۴ روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۸) پس قرآن کریم کی نبی کی تعریف کے مطابق تو آپ نبی تھے۔ہاں عوام کو سمجھانے کے لئے آپ نے حقیقی نبی کے یہ معنی کئے ہیں کہ جو شریعت جدیدہ لائے ان معنوں کے مطابق آپ مجازی نبی تھے۔جس کے صرف یہ معنی ہیں کہ آپ کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔