انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 15

العلوم جلد۔۱۵ چند نام نمیور کرے تو اس پر خدا کی لعنت ہو وغیرہ وغیرہ۔لیکن ہر ایک دانا شخص سمجھ سکتا ہے کہ یہ سب سوالات اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہیں جو میں اوپر بتا آیا ہوں۔اور چونکہ نہ میرا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت مسیح موعود ۱۹۰۲ء سے نبی بنائے گئے ہیں اور نہ یہ کہ نبی کے لئے امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانے کے سوائے کسی اور شے کی بھی ضرورت ہے۔اس لئے مجھ پر یہ اعتراض دارد نہیں ہوتے۔یہ اعتراضات تو آپ کے ایجاد کردہ خیالات پر ہی پڑتے ہیں پس آپ ہی ان کے جواب دینے کی تکلیف کریں۔میں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے جواب دینے کا ذمہ دار ہی ممکن ہے بعض لوگ حضرت صاحب کا ۱۸۹۹ء کا ایک حوالہ نقل کر دیں جس میں حضرت مسیح موعود نے نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا بلاواسطہ نبوت پانا شرط رکھا ہے۔اور اس سے یہ ثابت کرنا چاہیں کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں۔سو یاد رہے کہ یہ حوالہ تو ۱۹۰۱ء سے پہلے کا ہے اور یہی تو حوالہ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ پہلے اپنی نبوت سے کیوں انکار کرتے تھے کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ عام مسلمانوں کے خیالات کے مطابق خیال کرتے تھے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا بلا واسطہ نبوت پانا شرط ہوتا ہے اور چونکہ آپ میں یہ شرائط نہیں پائی جاتی تھیں اس لئے آپ اپنے الہامات میں نبی کے لفظ کی تاویل کر دیتے تھے۔لیکن جیسا کہ میں اوپر حضرت مسیح موعود کے حوالہ جات سے ثابت کر آیا ہوں۔۱۹۰۱ء سے آپ نے اپنے الہامات سے متنبہ ہو کر اپنے نبی ہونے کا اعلان کیا۔اور اب نبی کی وہ تعریف بھی جو لوگوں میں مشہور تھی ترک کر دی اور جیسا کہ میں اوپر حوالہ دے چکا ہوں آپ نے صاف لکھ دیا کہ خدا کی اصطلاح میں اور نبیوں کے محاورہ میں نبی کی تعریف صرف یہ ہے کہ کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ اسے حاصل ہو جو امور غیبیہ پر مشتمل ہو۔پس اس تعریف کو حضرت مسیح موعود نے بعد میں غلط قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ نبی کے لئے شریعت جدیدہ کا لانا یا دوسرے نبی کا متبع نہ ہونا شرط نہیں۔پس جس تعریف کو حضرت مسیح موعود غلط قرار دیتے ہیں اور جن باتوں کو نبوت کے لئے شرط ہی نہیں قرار دیتے ان سے آپ کی نبوت کے خلاف یا میرے عقیدہ کے خلاف حجت کس طرح پکڑی جاسکتی ہے ؟ اور جبکہ خود قرآن کریم بھی فَلَا يُظهِرُ عَلَى غَيْبه والى آیت میں کھلے الفاظ میں اسی خیال کی تائید کرتا ہے جو حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۱ء کے بعد ظاہر فرمایا تو پھر تو مومن کو شک کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔