انوارالعلوم (جلد 3) — Page 10
لوم جلد ۳ چند غلط فہمیوں کا ازالہ اس بات کا اعلان کرتے کہ اب میری نبوت سے مراد امور غیبیہ پر کثرت سے اطلاع پانا نہیں بلکہ اور ہے۔یہ بات تو دو ہی صورت سے ہو سکتی تھی یا تو اس صورت میں کہ حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نہیں ہوتے بعد میں نبی بنائے جاتے۔تب ضروری تھا کہ آپ اپنا کوئی نیا کام بتاتے کہ اب میں چونکہ نبی بنایا گیا ہوں مجھے فلاں نیا کام سپرد کیا گیا ہے یا فلاں نیا انعام مجھ پر کیا گیا ہے یا اس صورت میں آپ کی تحریرات میں اختلاف ہونا چاہئے تھا کہ پہلے آپ جن باتوں کے اپنے اندر پائے جانے کے مدعی تھے ان کے سوا نبیوں میں کچھ اور باتیں ہوتی ہیں۔پس جب آپ نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا تو ان باتوں کے پائے جانے کا دعویٰ بھی کرنا چاہئے تھا جن سے کوئی شخص نبی ہوتا ہے۔لیکن جب کہ یہ دونوں خیالات غلط ہیں نہ تو آپ جزوی نبی سے نبی بنائے گئے۔اور نہ یہ کہ کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کے سوا نبوت کسی اور چیز کو کہتے ہیں تو پھر حضرت مسیح موعود کی تحریرات میں اختلاف کیوں ہوتا؟ افسوس ہے کہ جناب مولوی صاحب نے رسالہ القول الفصل میں وہ عبارات نہ دیکھیں جو صفحہ ۷۶٬۵۴ پر میں نے لکھی ہیں اور حضرت مسیح موعود کے حوالہ جات سے ان کی تصدیق کی ہے جن کا یہ مطلب کا بہ ہے کہ نبی کہتے ہی اسی کو ہیں جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں اور خدائے تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے نبیوں اور قرآن کریم اور اسلام کی اصطلاح میں ایسے ہی شخص کو نبی کہتے ہیں جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں۔کیونکہ اگر مولوی صاحب نے ان صفحات کو غور سے پڑھا ہوتا تو آپ میرے خلاف وہ حوالہ جات کیوں پیش کرتے جن میں حضرت مسیح موعود کثرت مکالمہ و مخاطبہ اور امور غیبیہ پر اطلاع پانے کو اپنے نبی کہلانے کی وجہ بتاتے ہیں؟ کیا اس بات سے میں نے انکار کیا تھا؟ جب کہ میں نے آپ کے نبی ہونے کے ثبوت میں خود آپ ہی کی کتب میں سے یہ ثبوت دیا تھا کہ نبی اسے کہتے ہیں جس پر کثرت سے امور غیبیہ ظاہر کئے جائیں تو مولوی صاحب کے ایسے حوالے نقل کر دینے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکتا ہے جن میں حضرت مسیح موعود نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ میری نبوت سے مراد کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پاتا ہے؟ کیا پہلے نبیوں کے نبی کہلانے کی کوئی اور وجہ تھی ؟ پہلے نبی بھی تو اسی لئے نبی تھے " کہ ان پر کثرت سے امور غیبیہ کا اظہار ہوتا تھا جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں یہ ضرور یاد رکھو کہ اس امت کے لئے وعدہ ہے کہ وہ ہر ایک ایسے انعام پائے گی جو پہلے نبی اور صدیق پاچکے ہیں۔پس منجملہ ان انعامات کے وہ نبوتیں اور پیشگوئیاں ہیں جن کے رو