انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 11

لوم جلد - ۳ چند غلط فہمیوں کا ازالہ سے انبیاء علیہم السلام نبی کہلاتے رہے۔ایک غلطی کا ازالہ صفحہ ۵ حاشیه روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۲۰۹) پس اس بات کے ثابت کرنے سے کہ حضرت مسیح موعود ہمیشہ اپنی نبوت کے یہی معنی کرتے رہے کہ آپ کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی تھی نبوت کا رد نہیں ہو تا بلکہ نبوت ثابت ہوتی ہے کیونکہ نبوت اسی کا نام ہے اللہ تعالیٰ بھی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ فلا يُظهِرُ عَلى غَيْبِهِ اَحَدًا اِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُول - الجن : ۲۷-۲۸) یعنی اللہ تعالیٰ سوائے اپنے رسولوں کے کسی کو غیب پر غلبہ عطاء نہیں فرماتا۔پس کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے کا یہ مطلب کیونکر نکالا جا سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود نبی نہیں۔اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ ضرور نبی تھے غرض کہ جب میں نے القول الفصل میں نبی کی تعریف ہی یہ کی ہے کہ نبی اسے کہتے ہیں جسے کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جائے اور خود حضرت مسیح موعود کی تحریرات سے ثابت کیا ہے کہ نبی ایسے ہی شخص کو کہتے ہیں تو میرے مضمون کے رو کرنے کے لئے ایسی عبارتوں کے نقل کرنے سے کیا فائدہ جن سے یہ ثابت ہو کہ حضرت مسیح موعود ہمیشہ اپنے نبی ہونے کے یہ معنی کرتے رہے ہیں کہ آپ کو کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع دی جاتی ہے جب کثرت سے امور غیبیہ پر اطلاع پانے والے کو ہی نبی کہتے ہیں تو ان حوالوں سے تو یہ ثابت ہو گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمیشہ سے نبی تھے نہ یہ کہ آپ کبھی بھی نبی نہیں ہوئے۔وہ حوالے تو میری تائید میں ہیں نہ کہ میرے مخالف۔ان حوالوں کو پڑھ کر شائد ان لوگوں کو تو دھوکا لگ جائے جنہوں نے القول الفصل کو غور سے نہیں پڑھا لیکن جنہوں نے القول الفصل کا غور سے مطالعہ کیا ہے وہ تو انہیں پڑھ کر حیران ہوتے ہیں کہ مولوی صاحب تردید میں رسالہ لکھ رہے ہیں یا تائید میں؟ کیونکہ جو باتیں وہ میرے مضمون کی تردید میں پیش کرتے ہیں وہ در حقیقت میری تائید میں ہیں۔اور یہ سب اسی غلط فہمی کا نتیجہ ہے جو میں پہلے بتا آیا ہوں کہ آپ کے خیال میں میرے نزدیک حضرت مسیح موعود پہلے جزوی نبی تھے اور بعد میں نبی ہو گئے حالانکہ جیسا کہ میں القول الفصل کی ایک عبارت نقل کر چکا ہوں اس نتیجہ پر وہ بغیر غور کے ہی پہنچ گئے ہیں اور ایک عقیدہ انہوں نے خود ہی ایجاد کیا ہے اور خود ہی اس کی تردید کرنی شروع کر دی ہے میرے رسالہ کا جواب تو وہ اسی طرح دے سکتے ہیں کہ یا تو یہ ثابت کریں کہ امور غیبیہ پر اس کثرت سے اطلاع پا نا کہ گویا ان پر ایک غلبہ حاصل ہو جائے اس کا نام