انوارالعلوم (جلد 3) — Page 227
انوار العلوم جلد - ۲۲۷ اتوار خلافت غلط ہے۔لیکن اگر آنے والے نبی کو مثیل کہا جاتا تو اس سے تاریخ کا رد نہ ہو سکتا تھا۔لیکن جب انہی کا نام رکھا گیا اور وہ نہ آئے بلکہ ان کے رنگ میں ایک شخص آیا تو یہ بات ثابت ہو گئی کہ جب خدا تعالیٰ نے ایک شخص کا نام لیا تھا کہ وہ دوبارہ آئے گا اور پھر بھی وہ دوبارہ دنیا میں نہ آیا بلکہ اس کا مثیل آیا۔تو بلا وعدہ کے پہلی ارواح کس طرح واپس آسکتی ہیں۔یہ ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے نبیوں اور پیاروں کی عزت کو بڑھاتا ہے۔جب آٹھویں حکمت تمام دنیا میں اندھیر ہو گیا لوگ خدا کو چھوڑ کر فسق و فجور میں پڑ گئے اور اس بات کی ضرورت ہوئی کہ ایک مصلح بھیجا جائے اور ادھر اللہ تعالیٰ نے پسند نہ فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کی نسبت یہ کہا جائے کہ آپ کی امت کے بگڑنے پر فلاں شخص نے آکر اس کی اصلاح کی پس اس آنے والے کو آپ کا بروز اور مثیل بنایا اور غیریت کو بالکل مٹانے کے لئے آپ کا نام اسے دیا تا یہ نہ کہا جائے کہ محمد ﷺ کی امت کے بگڑنے پر کسی اور نے اس کی اصلاح کی بلکہ یہی کہا جائے کہ امت محمدیہ کی اصلاح محمد نے ہی کی۔لیکن گو آپ کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ ایک نیا طریق اختیار کیا تھا مگر چونکہ دوسرے انبیاء کی امتوں کی اصلاح بھی اسی شخص کے سپرد تھی اس لئے ان کے نام بھی اس آنے والے کو دیئے گئے کیونکہ جب خدا تعالیٰ فضل کرتا ہے تو اس کا فضل وسیع ہو جاتا ہے۔غرض اس طرح کی عجیب عجیب حکمتیں تھیں جن لکھا کے لئے ایک ہی انسان کو بھیجا گیا۔اور آنحضرت ﷺ کی امت سے بھیجا گیا۔یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود نے لکھا ہے۔اور حدیث و قرآن کے مطابق کے نویں حکمت ہے کہ خدا تعالٰی کے پیاروں کو جبکہ وہ فوت ہو جاتے نہیں دنیا کے حالات بتائے جاتے ہیں۔پس جب دنیا میں ظلمت اور تاریکی پھیل گئی فسق و فجور بڑھ گیا اور ایسی گمراہی پھیل گئی کہ اس کی نظیر اس سے پہلے کے کسی زمانہ میں نہیں ملتی تو تمام نبیوں کی روحوں کو کرب اور اضطراب ہوا کہ ہماری امتیں گمراہ ہو رہی ہیں۔پس خدا تعالٰی نے ان کے اضطراب اور ان کی دعاؤں کے ماتحت ایک مصلح کو دنیا میں مبعوث کیا۔اور ہر ایک نبی کی توجہ اور دعا کی قبولیت کے اظہار کے لئے اس مصلح کو اسی نبی کا نام دیا۔دسویں یہ ہے کہ اگر حضرت مسیح موعود کا نام بدھ ، کرشن ، مسیح اور محمد نہ رکھا جاتا حکمت تو رسول اللہ لال کی اس میں سخت ہتک ہوتی۔اور اگر ان کا مثیل کہا جاتا تو بھی بڑی ہتک ہوتی کیونکہ آنحضرت ﷺ نے تو فرمایا کہ لَو كَانَ مُوسَى وَ عِيسَى