انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 228

وم جلد ۳۰ ۲۳۸ انوار خلافته حَيَّيْنِ مَا وَسِعَهُمَا إِلَّا اتباعى ( الیواقیت والجواهر مرتبه امام شعرانی جلد ۲ ص ( اگر موسیٰ اور عیسی زندہ ہوتے تو انہیں میری اطاعت کے بغیر کوئی چارہ ہی نہ ہو تا۔اگر اس بات کا کوئی ثبوت دنیا کے سامنے پیش نہ کیا جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ (نعوذ باللہ) یہ بڑ مار دی ہے اس کا کیا ثبوت ہے کہ وہ آپ کی اتباع کرتے۔خدا تعالٰی نے اس بات کو دور کرنے کے لئے یہ کیا کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب کو ان نبیوں کے کمالات کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ کو تمام نبیوں کے نام سے یاد کیا۔موسیٰ بھی کہا۔عیسیٰ بھی کہا۔ابراہیم بھی کہا۔داود بھی کہا۔اور پھر جَرِ اللهِ فِی حُلل الأنبياء کہہ کر سب نبیوں کے نام آپ کے نام رکھے اور پھر اس کے ساتھ آپ کو غلام احمد بھی کہا اور اس طرح رسول کریم ﷺ کے قول کی سچائی ثابت کی۔کیونکہ جبکہ ایک شخص ان سب انبیاء کے کمالات کا جامع ہو کر رسول کریم کا غلام کہلایا۔تو اگر ان ناموں کے ا مصداق الگ الگ دنیا میں زندہ ہوتے تو رسول کریم ﷺ کی کیوں غلامی نہ کرتے۔پس تمام نبیوں کے نام حضرت صاحب کو دے کر رسول کریم ای کے دعوے کی تصدیق کی گئی ہے۔لیکن اگر خدا تعالٰی یہ فرمانا کہ مثیل عیسی آئے گا مثیل موسیٰ آئے گا تو لوگ کہہ سکتے تھے کہ مشیل تو چھوٹا بھی ہو سکتا ہے پس اس کی غلامی سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ اگر وہ انبیاء ہوتے تو وہ بھی آپ کی غلامی کرتے۔پس خدا تعالیٰ نے آپ کو پہلے نبیوں کا مثیل نہیں کہا۔بلکہ مسیحی ، نوح، ابراہیم ، داؤد کیا اور سب نبیوں کے کمالات کا جامع کہا۔لیکن باوجود اس کے محمد کا غلام کہا تا معلوم ہو کہ اگر وہ الگ الگ طور پر پہلے نبی دنیا میں ہوتے تو وہ بھی رسول کریم کا غلام ہونے کو فخر سمجھتے۔موی غرض یہ حکمتیں تھیں حضرت مسیح موعود کے اس قدر نام رکھنے کی اور یہ مصلحتیں تھیں آپ کو وہی نبی قرار دینے کی اور مثیل نہ کہنے کی۔جن کو میں نے مختصر الفاظ میں بیان کر دیا ہے۔