انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 138

۱۳۸ لیکن تم ڈرو کہ خدا تعالیٰ کی گرفت بہت سخت ہوتی ہے۔وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے احکام کی قدر نہیں کرتے اور ان کو سیکھنے اور سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔خدا تعالیٰ بھی ان کو نہیں چاہتا کہ اپنے قرب میں جگہ دے۔پس میں نے قرآن شریف کے پڑھنے کے لئے یہ تجویزیں کی ہیں ان سے فائدہ اٹھاؤ اور کچھ حاصل کر لو۔غرض جماعت کو علم دین سکھانے کی دوسری تدبیر ایسے ٹریکٹوں کا شائع کرنا ہے جن میں مختلف ضروری مسائل ہوں۔فی الحال ایک رسالہ مسئلہ زکوۃ پر لکھا گیا ہے جو کل چھپ جائے گا (چھپ گیا ہے) اس کا آپ لوگ خوب مطالعہ کریں اور ان احکام پر عمل کرنے کی طرف متوجہ ہوں۔زکوۃ کے متعلق کئی قسم کی غلط باتیں مشہور ہیں۔بعض کہتے ہیں کہ صرف رجب کے مہینہ میں زکوۃ دی جا سکتی ہے۔بعض کچھ اور کہتے ہیں اور پھر کئی قسم کے بہانے اور ذریعے زکوۃ نہ دینے کے نکالے جاتے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرماتے تھے کہ ایک شخص بڑا مالدار تھا وہ جب زکوۃ دیتا تو اس طرح کرتا کہ ایک گھڑے میں روپے ڈال کر اوپر تھوڑے سے گندم کے دانے ڈال دیتا اور ایک غریب طالب علم کو بلا کر کہتا کہ میں نے یہ مال تمہیں دے دیا ہے تم اسے قبول کرو۔وہ کہتا میں نے قبول کیا۔پھر وہ اسے کہتا اس بوجھ کو کہاں اٹھا کر لے جاؤ گے۔اس کو میرے پاس ہی بیچ دو اور دو تین روپے لے لو۔اس طرح وہ اس کو دو تین روپے دے کر سارا مال گھر میں ہی رکھ لیتا۔وہ آدمی خوب سمجھتا کہ اس گھڑے میں روپے ہیں لیکن اس ڈر سے کچھ نہ کہہ سکتا کہ اگر میں نے کچھ کہا تو ان دو تین روپوؤں سے بھی جاؤں گا۔تو اس قسم کے چیلے تراشے جاتے ہیں اس کی بڑی وجہ یہی ہے کہ جاہل لوگ نہیں جانتے کہ زکوۃ دینے کی کیا شرائط ہیں۔آنحضرت ﷺ نے تو یہاں تک فرما دیا ہے کہ جو شخص کسی کو صدقہ کا مال دے وہ اس سے نہ خریدے۔معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت کو معلوم تھا کہ ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ لوگ رو پوؤں پر گیہوں رکھ کر دیں گے اور خود ہی خرید لیں گے۔اس لئے فرما دیا کہ کوئی صدقہ کا مال دے کر پھر نہ خریدے۔اگر یہ بات انہیں معلوم ہو تو کیوں ایسا کریں۔یہ زکوۃ کا رسالہ بارہ صنفی کا ہے۔اس کو اگر آپ لوگ اچھی طرح پڑھ لیں اور یاد کرلیں تو کوئی مولوی ان مسائل کے متعلق آپ سے گفتگو کرنے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔یہ ٹریکٹ بہت محنت اور تحقیق سے تیار کیا گیا ہے۔جلسہ کے قریب میں نے علماء کی ایک کمیٹی میں بیٹھ کر اور کتب حدیث و فقہ سامنے رکھ کر اس کو تیار کروایا ہے۔پڑھنے والے کو معلوم نہیں ہو سکتا کہ فیج اعوج کے زمانہ میں کسی مسئلہ کے ھوکا