انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 137

انوار العلوم جلد - ۳ ۱۳۷ باتوں کو سیکھے آنحضرت اللہ کی باتوں سے واقف ہو اور حضرت مرزا صاحب کی باتوں سے آگاہ ہو ہم اپنی طرف سے ایسے لوگوں کے لئے آسانی بہم پہنچانے کی حتی الوسع کوشش کریں گے۔ملہ قرآن شریف کا ایک تو وہ ترجمہ ہو گا جس میں نوٹ اور ترجمہ ہو گا لیکن یہ علیحدہ ہوگا جس میں الگ الگ الفاظ کے معنی لکھے جائیں گے۔اس سے آئندہ انشاء اللہ بہت آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔موجودہ صورت میں قرآن شریف کے با ترجمہ پڑھنے میں بہت سی مشکلات ہیں۔مثلاً ائی ایک لفظ ہے جس کے معنی خاص کے ہیں۔یہ جس لفظ پر آئے اس کے معنوں کو خاص کر دیتا ہے یہ حرف قرآن کریم میں سینکڑوں جگہ پر آتا ہے لیکن چونکہ یہ حرف جب آتا ہے دوسرے حرف سے مل کر آتا ہے۔اس لئے عربی زبان سے ناواقف انسان ہر جگہ استاد کا محتاج ہوتا ہے لیکن اگر کسی کو ان کے معنی الگ بتا دیے جائیں تو اس ایک حرف سے اسے گویا سینکڑوں مقامات آسان ہو جائیں گے۔اب یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص مثلاً قادر کے معنی جانتا ہے مگر جب القادِرُ آ جائے تو وہ کوئی اور لفظ سمجھنے لگ جاتا ہے۔پس جب اسے آئی کے معنی معلوم ہوں گے تو جہاں بھی اور جس لفظ پر بھی یہ آئے گا۔اس کے معنی وہ خود کر لے گا۔اور اس طرح ایک لفظ کے معنی جانے سے اسے سینکڑوں الفاظ آجائیں گے۔دوسری تجویز یہ ہے کہ جیسا میں نے ۱۲۔اپریل ۱۹۱۴ء کے جلسہ میں بتایا تھا۔خاص خاص مسائل پر چھوٹے چھوٹے ٹریکٹ لکھے جائیں تاکہ عام لوگ ان کو پڑھ کر مسائل دین سے پوری طرح واقف ہو جائیں تا ایسا نہ ہو کہ بعض پاک ممبر کہلانے والوں کی طرح ان کی جرابیں ایڑیوں سے پھٹی ہوئی ہوں اور انہیں کوئی پرواہ نہ ہو۔انہی پاک ممبر کہلانے والوں میں سے میں نے ایک کو دیکھا ہے کہ ایک ٹانگ پر بوجھ ڈالے اور دوسری کو ڈھیلا چھوڑے نماز پڑھا کرتا تھا۔اور ایک دیوار سے ٹیک لگا کر پڑھتا تھا وجہ یہ کہ اس نے حضرت صاحب کو اس طرح پڑھتے دیکھا تھا۔حالانکہ آپ بیمار تھے اور بعض دفعہ یک لخت آپ کو دوران سر کا دورہ ہو جاتا تھا۔جس سے گرنے کا خطرہ ہو تا تھا اس لئے آپ ایسے وقت میں کبھی سہارا لے لیا کرتے تھے۔ان لوگوں نے تکبر اور بڑائی کی وجہ سے باوجود حضرت مسیح موعود کی صحبت پانے کے کچھ نہ سیکھا۔ان میں سے ایسے بھی تھے کہ حضرت صاحب کے سامنے بیٹھے ہوئے اپنی لات پر مکیاں مار رہے ہوتے۔اور آہا ہا ہا ہا کرتے۔کوئی ادب اور کوئی تہذیب ان کو نہ ہوتی۔میں ان کو دیکھ کر تعجب ہی کیا کرتا تھا کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں۔غرض وہ خالی آئے اور خالی ہی چلے گئے۔