انوارالعلوم (جلد 3) — Page 139
العلوم جلد ۳۰ ۱۳۹ متعلق تحقیق کرنے میں کس قدر مشکلات پیدا ہو گئی ہیں۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے وہی اس کی مشکلات کو سمجھ سکتے ہیں۔کئی مسائل ایسے ہیں کہ آئمہ نے ابتداء احادیث کے مرتب نہ ہونے کی وجہ سے ان میں قیاس سے کام لیا ہے لیکن ہمارے پاس احادیث نہایت مرتب صورت میں موجود ہیں پس ہمیں ان مسائل پر از سر نو غور اور تحقیق کی ضرورت ہوئی۔اسی طرح اور بہت سی مشکلات تھیں جن کو دور کر کے یہ رسالہ تیار کیا گیا ہے جو خدا کے فضل سے بہت عمدہ تیار ہوا ہے۔یہ رسالہ بارہ صفحات کا ہے۔اسی طرح کے اور بھی چھوٹے چھوٹے رسائل مختلف مسائل مثلاً وراثت ، طلاق ، صدقہ نکاح وغیرہ کے متعلق ہوں گے۔پھر اسی طرح اعتقادات کے متعلق کہ خدا تعالیٰ کو ہم کیا سمجھیں عرش کیا ہے ، بہشت دوزخ ، فرشتے ، تقدیر وغیرہ وغیرہ کے متعلق کیا کیا اعتقاد رکھنے چاہئیں۔اس زمانہ میں جھوٹے پیروں اور جاہل علماء نے بہت سی غلط اور بیہودہ باتیں پھیلا رکھی ہیں۔آج ہی صوفی غلام محمد صاحب کا خط آیا ہے۔جس میں وہ اور وہاں کے دوسرے احمدی بھائی آپ سب لوگوں کو السلام علیکم لکھتے ہیں۔انہوں نے اپنے اس خط میں لکھا ہے کہ ایک شخص احمدی ہوا ہے۔اس نے بتایا کہ میں ایک پیر کا مرید تھا پہلے میں نماز پڑھا کرتا تھا لیکن جب اس پیر کا مرید ہوا تو اس نے کہا کہ تم یہ کیا لغو حرکت کرتے ہو۔خدا تعالیٰ تو فرماتا ہے نَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ( : (۱۷) کہ ہم رگ جان سے بھی قریب تر ہیں۔پھر تم نماز کیسی اور کس کی پڑھتے ہو۔تم تو ہندوؤں کے پتھر کے بتوں پر ہنستے ہو اور خود اینٹوں کی بنی ہوئی مسجد کے آگے سجدے کرتے ہو۔غرض اس طرح اس نے نماز چھڑا دی۔تو ایسے لوگوں نے اس قسم کی باتیں پھیلا کر دین کو بگاڑ دیا ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کو بیماری میں کہا جائے کہ علاج کراؤ تو کہہ دیتے ہیں کہ جو خدا کی مرضی وہی ہو گا علاج سے کیا بنتا ہے۔یہ خیالات مسئلہ تقدیر کے نہ سمجھنے کا نتیجہ ہیں۔پس میرا منشاء ہے کہ ایسے مسائل پر عمدگی کے ساتھ چھوٹے چھوٹے رسائل لکھے جائیں اور زبانی بھی سمجھایا جائے۔میرا دل چاہتا ہے کہ اگلے جلسہ پر یا جب خدا تعالیٰ توفیق دے اور جس کو دے تقدیر اور تدبیر کے مسئلہ پر بحث کر کے بتایا جائے کہ ان دونوں کا آپس میں کیا تعلق ہے۔کہاں تک تقدیر کو دخل ہے اور کہاں تک تدبیر کو۔اس وقت وقت نہیں ورنہ میں بتا دیتا۔پھر ایک مسئلہ ہستی باری تعالیٰ کا ثبوت ہے اس کے متعلق میرا ایک لیکچر فیروزپور میں ہوا تھا جس کو میں ایک ٹریکٹ کی صورت میں چھپوا کر مفت شائع کر چکا ہوں جو اب بھی دفتر اخبار الفضل سے مل سکتا ہے اس میں میں نے خدا تعالیٰ کی