انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 113 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 113

وم جالند ہماری تلواروں سے ٹپک رہا ہے لیکن مال رسول اللہ نے اور لوگوں کو دے دیا اور بعض نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب آپ اپنی قوم سے جاملیں گے۔جب آپ نے یہ بات سنی تو انصار کو ایک جگہ جمع کیا اور فرمایا کہ اے انصار مجھے تمہاری نسبت خبر پہنچی ہے اور تم نے میری نسبت کیا برائی معلوم کی ہے۔کیا تم گمراہ نہ تھے کہ خدا تعالیٰ نے میرے ذریعہ تم کو ہدایت دی اور کیا جب میں آیا ہوں تم غریب نہ تھے کہ خدا تعالیٰ نے تم کو مالدار کر دیا۔اور کیا تم آپس میں دشمن نہ تھے کہ اللہ تعالٰی نے تم کو دوست بنا دیا۔انصار نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہ ! اللہ اور اس کے رسول کے فضل اور احسان سے ایسا ہی ہوا۔پھر فرمایا کہ اے انصارا تم مجھے جواب کیوں نہیں دیتے انہوں نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں۔فرمایا تم چاہو تو کہہ سکتے ہو اور تمہاری بات جھوٹی بھی نہ ہوگی کہ تو ہمارے پاس ایسے وقت میں آیا کہ لوگ تجھے جھٹلاتے تھے ہم نے تیری تصدیق کی۔اور کوئی تیرے ساتھ نہ تھا پھر ہم نے تیری مدد کی۔اور تو دھتکارا ہوا تھا ہم نے تجھے جگہ دی۔اور تو غریب تھا ہم نے تیری ہمدردی کی۔اے انصار ! تم نے دنیا کے مال کے لئے جس کے ذریعہ سے میں نے ایک نئی قوم کے قلوب کی تالیف کی تھی اپنے دلوں میں برا منایا۔اے انصار! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ تو بکریاں اور اونٹ اپنے گھروں کو لے جائیں اور تم اپنے گھروں کو خدا کے رسول کو لے جاؤ۔مجھے اسی خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ہونا پسند کرتا۔اور اگر لوگ ایک وادی میں جائیں اور انصار دوسری وادی میں تو میں اس وادی میں جاؤں جس میں انصار گئے ہوں۔اے خدا! انصار پر رحم کر اور ان کے بیٹوں پر اور ان کی بیٹیوں پر۔اس پر انصار اس قدر روئے کہ ان کی داڑھیاں تر ہو گئیں۔(بخاری کتاب المغازی باب غزوة الطائف سم۔۔الخ ) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہجرت کا درجہ بلند تھا۔اور قرآن کریم میں بھی ہجرت پر خاص زور ہے پس اگر رسول کریم کا زمانہ مراد ہوتا تو انصار سے پہلے ہجرت کا ذکر ہوتا اور یہ لکھا ہوتا کہ مہاجرین و انصار میں داخل ہو جاؤ۔لیکن اس جگہ ہجرت کا ذکر بھی نہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایسا زمانہ ہے کہ جب ہجرت فرض نہ ہوگی۔اور وہ یہی زمانہ ہے۔اس سورۃ سے اگلی سورۃ میں جو اس کے ساتھ ہی ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔نویں دلیل الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ابْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَ