انوارالعلوم (جلد 3) — Page 114
انوار العلوم جلد ۳۰ ووو يُعلّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ وَ إِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ ( الجمع ٣٤ ) اور اس کے بعد فرماتا ہے وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعہ : (۴) اور وہ اس رسول کو ایک اور جماعت میں مبعوث کرے گا جو اب تک تم سے نہیں ملی۔ان آیات میں آنحضرت ﷺ کی دو بعثتوں کا ذکر ہے اور چونکہ احادیث سے آپ کے بعد ایک مسیح کا ذکر ہے جس کی نسبت آپ نے یہاں تک فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہو گا۔یعنی وہ اور میں ایک ہی وجود ہوں گے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسری بعثت سے مراد مسیح موعود ہی ہے۔کیونکہ اسلام تاریخ کا قائل نہیں کہ یہ خیال کیا جائے کہ آپ خود ہی دوبارہ تشریف لائیں گے اس لئے آپ کی بعثت ثانیہ سے صرف یہی مراد لی جا سکتی ہے کہ کوئی شخص آپ کے رنگ میں رنگین ہو کر آئے گا۔اور وہ سوائے مسیح موعود کے اور کوئی نہیں ہو سکتا جس کی نسبت فرمایا ہے کہ وہ میری قبر میں دفن ہو گا۔(مشکوۃ کتاب الفتن باب نزول عیسی علیه السلام) اب ہم جب پہلی سورۃ کے ساتھ اس کو ملاتے ہیں تو اس میں بھی پہلے حضرت موسیٰ کا ذکر ہے اور پھر حضرت مسیح کا۔پھر اس سورۃ میں آنحضرت ا کی دو بعثتوں کا ذکر ہے جن میں سے ایک مسیح کی بعثت کے رنگ میں ہوئی ہے۔ان دونوں باتوں کو ملا کر صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلی سورۃ میں احمد کی جو پیشگوئی ہے وہ اسی بات کو بتانے کے لئے ہے کہ جس طرح اس امت میں مثیل موسی ہوا ہے مثیل مسیح بھی احمد کے نام سے ظاہر ہو گا۔چنانچہ اس بات کو صاف کرنے کے لئے سورۃ جمعہ میں رسول کریم کی دو بعثتوں کا ذکر فرما دیا۔تا دانا انسان سمجھ لے کہ احمد سے مراد آپ کی بعثت ثانیہ ہے نہ کہ اول۔کیونکہ اس سے پہلے موسیٰ کا واقعہ بیان ہو چکا ہے۔اور آنحضرت ا حضرت موسی کے مثیل ہیں۔غرض سورۃ جمعہ کو سورۃ صف کے ساتھ رکھ کر خدا نے اِسْمةَ احْمَدُ کی پیشگوئی کو اور بھی صاف کر دیا ہے۔اور بات بالکل صاف ہے خواہ کوئی مانے یا نہ مانے یہ اس کا اختیار ہے۔اللہ تعالی کے فضل سے تم لوگ جو مسیح موعود کے مانے والے ہو۔صحابہ احمد سے ہو اور رسول کریم ﷺ کی بعثت ثانیہ پر ایمان لانے والے ہو اس وقت کوئی اور جماعت نہیں جو تمہارا مقابلہ کر سکے۔اس وقت سلسلہ احمدیہ کو خدا تعالیٰ نے صحابہ کے ہم رنگ کر دیا ہے اور یہی ایک جماعت ہے جو ہر قسم کے رکھ ، تکلیفیں اور مصیبتیں اٹھاتی ہے۔لیکن پھر بھی دین خدا کے پھیلانے سے باز نہیں آتی اور نہ جھکتی ہے۔اس میں کچھ شک نہیں کہ تمہیں جرات دلانے اور