انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 112 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 112

دار العلوم جلد ۳ والے ہو۔انوار خلافت بہت لوگ ایسے ہیں جو چندہ دے کر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم چھوٹ گئے اب ہمارے سر پر کوئی فرض نہیں۔لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم مال بھی خرچ کرو اور جان بھی یعنی چندے بھی دو اور تبلیغ بھی کرو۔پس احمدی جماعت کے لوگوں کو ایسا ہی کرنا چاہئے۔اس آیت میں اللہ تعالی فرماتا ہے اگر تم مال خرچ کرو گے اور تبلیغ بھی کرو گے تو یہ تمہارے لئے بہت اچھا ہو گا۔یعنی جلد جلد تم ترقی کرو گے۔يَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَ يُدْخِلُكُمْ جَنَّتِ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الأنْهرُ وَ مَسكِنَ طَيِّبَةٌ فِى جَنْتِ عَدْنٍ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ، وَأُخرى تُحِبُّونَهَا ، نَصْرُ مِنَ اللهِ وَ فَتْحُ قَرِيبٌ ، وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ۔(الصف ۱۳۹(۱۳) خدا تعالیٰ تمہارے گناہوں اور تمہاری فرو گذاشتوں کو بخش دے گا اور تم کو باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور رہنے کے لئے بڑی پاکیزہ جگہیں ہوں گی باغوں میں۔یہ تمہارے لئے بہت بڑی کامیابی ہوگی۔اور ایک اور بات تمہیں نصیب ہوگی جس کو تم چاہتے ہو یعنی خدا کی نصرت تمہارے لئے آئے گی اور جلدی کامیابی ہوگی۔اور یہ مومنوں کے لئے بشارت ہے۔) اس کے بعد فرمایا - آيَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا اَنْصَارَ اللهِ كَمَا قَالَ آٹھویں دلیل عيسَى ابْنُ مَرْيَمَ لِلْحَوَارِينَ مَنْ أَنْصَارِى إِلَى اللهِ ، قَالَ الحَوَارِيُّونَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللهِ فَأَمَنَتْ طَائِفَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ كَفَرَتْ طَائِفَةٌ فَا يَّدْنَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلى عَدُهِهِمْ فَاصْبَحُوا ظَاهِرِينَ ) است (۱۵) اے وہ لوگو! جو رسول پر ایمان لائے ہو اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے مدد کرنے والے بن جاؤ جیسا کہ عیسی بن مریم نے حواریوں کو کہا تھا کہ تم میں سے کون ہے جو انصار اللہ ہو تو انہوں نے کہا کہ ہم سب کے سب انصار اللہ ہیں۔پس ایمان لایا بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ اور ایک گروہ نے کفر کیا۔پس ہم نے ان کی مدد کی جو ایمان لائے اوپر ان کے دشمنوں کے پس وہ غالب ہو گئے۔اس میں یہ دلیل ہے کہ آنے والا رسول لوگوں کو کہے گا کہ انصار اللہ بن جاؤ۔لیکن رسول کریم کی یہ آواز نہ تھی کہ اے لوگو انصار بن جاؤ۔بلکہ آپ کے وقت میں مہاجرین و انصار دو گروہ تھے۔اور مہاجرین کا گروہ انصار پر فضیلت رکھتا تھا۔چنانچہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ حنین کے بعد جب بہت سا مال غنیمت آیا اور آپ نے اسے تالیف قلب کے طور پر مکہ کے نو مسلموں میں تقسیم کر دیا تو انصار میں سے بعض نے اعتراض کیا کہ خون تو اب تک