انوارالعلوم (جلد 3) — Page 104
العلوم جلد ۱۰۴ کرتے ہیں کہ پورا نام آپ کا غلام احمد ہی تھا لیکن اس تمام نام میں سے اصل حصہ نام کا احمد تھا اور غلام صرف خاندانی علامت کے طور پر بڑھا دیا گیا تھا۔اسی وجہ سے کہیں آپ اپنا نام غلام احمد لکھتے تھے اور کہیں احمد۔اور اصل نام وہی ہوتا ہے جو نام کا چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا ہو اور جسے انسان الگ استعمال کرتا ہو۔دوسری دلیل آپ کے اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کی یہ ہے کہ خدا تعالیٰ (الصمت دوسری دلیل فرماتا ہے۔فَلَمَّا جَاءَهُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا هَذَا سِحْرٌ مُّبِينٌ - (است : ) پس جب وہ رسول کھلے کھلے نشانات کے ساتھ آگیا تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو سحر مبین ہے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب وہ رسول آئے گا تو لوگ ان دلائل و براہین کو سن کر جو وہ دے گا کہیں گے کہ یہ تو سحر مبین ہے یعنی کھلا کھلا غریب یا جادو ہے اور ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود سے یہی سلوک ہوا ہے۔جب آپ نے زبردست دلائل اور فیصلہ کن براہین اپنے مخالفوں کے سامنے پیش کئے تو بہت سے لوگ چلا اٹھے کہ باتیں تو بہت دلربا ہیں لیکن ہیں جھوٹ اور بہتوں نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ کی تحریر میں کچھ ایسا جادو ہوتا ہے کہ پڑھنے والے کو اپنی طرف مائل کر لیتی ہے اس لئے اس کو پڑھنا نہیں چاہئے۔اور کو خواجہ صاحب نے سیالکوٹ میں لیکچر دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرزا صاحب کو چونکہ کسی نے جادو گر نہیں کہا اس لئے وہ اس پیشگوئی کے مصداق نہیں ہیں مگر سینکڑوں آدمی ایسے ہیں جنہوں نے کہا کہ مرزا صاحب کو جادو آتا ہے اور اب بھی بہت سے ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو جادو آتا تھا۔بالْبَيِّنَتِ اس جگہ شاید کوئی شخص یہ دلیل بھی دے کہ یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَلَمَّا جَاءَهُمْ بالبينت قالُوا هَذَا سِحر مبین۔جب وہ رسول ان کے پاس دلائل کے ساتھ آگیا تو لوگوں نے کہا کہ یہ تو کھلا کھلا جادو ہے۔پس یہ کوئی ایسا رسول ہے جو اس آیت کے نزول سے پہلے آ چکا تھا اور وہ آنحضرت ا ہی ہیں لیکن ایسا اعتراض وہی شخص کرے گا جو قرآن کریم کی طرز کلام سے ناواقف ہو کیونکہ قرآن کریم میں بیسیوں جگہ پر آئندہ کی بات کو ماضی کے پیرایہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔حتی کہ بعض جگہ دوزخیوں اور جنتیوں کے اقوال کو ماضی کے صیغوں میں ادا کیا گیا۔ہے۔پس جبکہ دوسرے دلا کل سے یہ بات ثابت ہو جائے کہ یہ رسول کسی آئندہ زمانہ میں آنے والا تھا تو صرف ماضی کے صیغوں میں اس عبارت کا ادا ہونا اس بات کا ہرگز