انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 103 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 103

انوار العلوم جلد ۳۰ ١٠٣ انوار خلاف جب کہ دوبارہ لوٹنے کو احمد کہتے ہیں تو حضرت مسیح کے اس قول کو کہ میں دوبارہ دنیا میں آؤں گا۔عربی زبان میں استعارہ یوں بھی ادا کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے ایک رسول کی خبر دی جس کی صفت یہ ہوگی کہ وہ دوبارہ دنیا میں آیا ہوگا اور یہ معنی احادیث کی ان پیشگوئیوں کے بھی مطابق ہیں جن میں مسیح کے دوبارہ آنے کی خبر دی گئی تھی اور اس استعارہ کے استعمال کرنے میں یہ حکمت تھی کہ ایک تو اس پیشگوئی کو جو احادیث میں تھی اس طرح حل کر دیا کہ یہ ایک استعارہ ہے نہ کہ مسیح کا لوٹنا حقیقتاً مراد ہے۔دوسرے اس ایک ہی لفظ میں یہ بھی بتا دیا کہ مسیح کی یہ دوسری بعثت اس کی پہلی بعثت سے بہتر اور عمدہ ہوگی۔اور اس طرح ان لوگوں کا اعتراض دور کر دیا جو کہتے ہیں کہ مرزا صاحب مسیح سے افضل کیونکر ہو سکتے ہیں۔خدا تعالٰی نے خود ان لوگوں کا جواب دیا کہ جب دوسری دفعہ ہم نے ایک شخص کو اسی نام سے بھیجا ہے تو اس کو احمد بھی بنایا ہے یعنی پہلے مسیح پر فضیلت بھی دی ہے۔غرض یہ دس ثبوت ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ہی احمد تھے اور آپ ہی کی نسبت اس آیت میں خبر دی گئی تھی۔اس جگہ میں ایک اور اعتراض کو بھی دور کر دیتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ شائد کوئی شخص کہے ہے کہ حضرت صاحب کا ایک شعر ہے۔ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد اس شعر سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب کا نام غلام احمد تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس شعر میں تو حضرت صاحب نے اپنی صفت بیان کی ہے کہ میں جو غلام احمد ہو کر مسیح سے بڑھ کر ہوں۔اس سے رسول کریم ﷺ کی عظمت معلوم ہوتی ہے اور اس جگہ اپنا نام بیان نہیں فرمایا اور اگر یہاں نام ہے تو اس شعر کے کیا معنی ہوں گے کہ کرامت گرچه بے نام و نشان است بیانگر ز علمان یعنی کرامت گو اس زمانہ میں کہیں نظر نہیں آتی لیکن آتو غلامان محمد سے کرامت دیکھ لے۔کیا اس شعر کے یہ معنی ہیں کہ جن کا نام غلام محمد ہو ان سے کرامت دیکھ لے ؟ اس شعر کے یہ معنی نہیں اور غلام محمد سے یہاں نام مراد نہیں بلکہ صفت مراد ہے کہ جو محمد کا غلام ہو۔اسی طرح پہلے شعر میں بھی غلام احمد سے آپ کا نام مراد نہیں بلکہ آپ کی صفت مراد ہے پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہم کب کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود کا پورا نام غلام احمد نہ تھا ہم تو خود