انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 105

انوار العلوم جلد ۳۰ ۱۰۵ انوار خلافت ثبوت نہیں کہ وہ رسول ضرور اس آیت کے نزول سے پہلے آچکا تھا۔اس آیت میں یہ بیان کرنے کے بعد کہ جب وہ رسول تیسری دلیل احمد کی تعیین پر آئے گا تو لوگ اسے جادوگر یا جھوٹا یا رتال یا فریبی میں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ مَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَراى عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ وَ هُوَ يُدْعَى إِلَى الإسلام ، وَ اللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ ٥ است : ۸) یعنی اور اس سے زیادہ اور (الصف کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتا ہے در آنحالیکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کرے وہ تو سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے پھر اگر یہ شخص جھوٹا ہے جیسا کہ تم بیان کرتے ہو تو اسے ہلاک ہونا چاہئے نہ کہ کامیاب۔اللہ تعالیٰ تو ظالموں کو بھی ہدایت نہیں کرتا تو جو شخص خدا تعالیٰ پر افتراء کر کے ظالموں سے بھی ظالم ترین چکا ہے اس کو وہ کب ہدایت دے سکتا ہے۔پس اس شخص کا ترقی پانا اس بات کی علامت ہے کہ یہ شخص خدا تعالٰی کی طرف سے ہے اور جھوٹا نہیں جیسا کہ تم لوگ بیان کرتے ہو۔اس آیت میں خدا تعالٰی نے اس احمد رسول کی ایسی تعیین کر دی ہے کہ ایک منصف مزاج کو اس بات کے ماننے میں کوئی شک ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ احمد رسول کریم ال کے بعد آنے والا ہے اور نہ آپ خود وہ رسول ہیں نہ آپ سے پہلے کوئی اس نام کا رسول گذرا ہے کیونکہ اس آیت میں اللہ تعالی نے ایک ایسی شرط لگا دی ہے جو نہ آنحضرت ا میں پوری ہوتی ہے نہ آپ سے پہلے کسی اور نبی میں پوری ہو سکتی ہے اور وہ شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء کرے حالانکہ اسے اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے اور یہ شرط کہ حالانکہ اسلام کی طرف اسے بلایا جاتا ہے ایک ایسی شرط ہے جو رسول کریم میں نہیں پائی جاتی۔کیونکہ اسلام کے معنی قرآن کریم سے دو معلوم ہوتے ہیں ایک تو ہر ایک بچے دین کا نام جب تک کہ وہ اپنی اصل حالت پر قائم ہو صفاتی طور پر اسلام رکھا گیا ہے چنانچہ پہلے تمام نبیوں کو بھی جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں مسلم کہا گیا ہے۔دوسرے اسلام اس دین کا نام رکھا گیا ہے جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا۔پس " حالانکہ وہ اسلام کی طرف بلایا جاتا ہے" کے جملہ کے دو ہی معنی ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ وہ اس وقت کے حقیقی اور سچے مذہب کی طرف بلایا جاتا ہے یا یہ کہ اسلام نامی دین کی طرف بلایا