انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 159 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 159

۱۵۹ رالعلوم جلد ۳۰ سکتا۔پس لانا مشکل ہوتا ہے اور جب فاتح قوم کے افراد مفتوح قوم میں ملتے ہیں تو بجائے اس کو نفع پہنچانے کے خود اس کے بد اثرات سے متاثر ہو جاتے ہیں جس کا نتیجہ رفتہ رفتہ نہایت خطرناک ہوتا ہے۔جب اسلام کی فتوحات کا زمانہ آیا تو اسلام کے لئے بھی یہی مشکل در پیش تھی گو اسلام ایک نبی کے ماتحت ترقی کر رہا تھا لیکن نبی باوجود نبی ہونے کے پھر انسان ہی ہوتا ہے اور انسان کو کے تمام کام خواہ کسی حد تک وسیع ہوں محدود ہی ہوتے ہیں۔ایک استاد خواہ کتنا ہی لائق ہو اور ایک وقت میں تمہیں چالیس نہیں بلکہ سو سوا سو لڑکوں تک کو بھی پڑھا سکتا ہو لیکن اگر اس کے پاس ہزار دو ہزار لڑکے لے آئیں تو نہیں پڑھا سکے گا۔رسول بھی استاد ہی ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايَتِكَ وَيُعَلِّمُهُم الكتب والحِكْمَةَ وَيُزَ كَيْهِمُ ( البقره : ۱۳۰) کہ اس رسول کا یہ کام ہو کہ وہ خدا تعالی کی آیتیں لوگوں کو سنائے۔کتاب کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔غرض نبی ایک استاد ہوتا ہے اس کا کام تعلیم دینا ہوتا ہے۔اس لئے وہ تھوڑے لوگوں کو ہی دے سکتا ہے کیونکہ لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کو سبق دینا اور پھر یاد بھی کروا دینا کسی انسان کا کام نہیں ہو جب کسی کے سامنے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں کی جماعت سبق لینے کے لئے کھڑی ہو تو ضرور ہو گا کہ اس کی تعلیم میں نقص رہ جائے اور پوری طرح علم نہ حاصل کر سکے یا یہ ہو گا کہ بعض تو پڑھ جائیں گے اور بعض کی تعلیم ناقص رہ جائے گی اور بعض بالکل جاہل کے جاہل ہی رہ جائیں گے اور کچھ تعلیم نہ حاصل کر سکیں گے۔پس آنحضرت ﷺ کو جب فتوحات پر فتوحات ہوئی شروع ہو ئیں اور بے شمار لوگ آپ کے پاس آنے لگے تو ان کے دل میں جو بڑا ہی پاک دل ہے تھا یہ گھبراہٹ پیدا ہوئی کہ ان تھوڑے سے لوگوں کو تو میں اچھی طرح تعلیم دے لیتا قرآن سکھا سکتا تھا (چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت ا لیے بڑی پابندی سے صحابہ کو قرآن سکھاتے تھے ) لیکن یہ جو لاکھوں انسان اسلام میں داخل ہو رہے ہیں ان کو میں کس طرح تعلیم دوں گا۔اور مجھ میں جو بوجہ بشریت کے یہ کمزوری ہے کہ اتنے کثیر لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا اس کا کیا علاج ہو گا۔اس کا جواب سورۃ نصر میں خدا تعالٰی نے یہ دیا کہ اس میں شک نہیں کہ جب فتح ہوگی اور نئے نئے لوگ کثرت سے اسلام میں داخل ہوں گے تو ان میں بہت سی کمزوریاں ہوں گی۔اور یہ بھی سچ ہے کہ وہ سب کے سب تجھ سے تعلیم نہیں پاسکتے۔مگر ان کو تعلیم دلانے کا یہ علاج ہے کہ تو خدا سے دعا مانگے کہ اے خدا ! مجھ میں بشریت کے لحاظ سے یہ کمزوری ہے کہ