انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 160 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 160

14۔انوار خلافت اتنے لوگوں کو تعلیم نہیں دے سکتا تو میری اس کمزوری کو ڈھانپ دے اور وہ اس طرح کہ ان سب لوگوں کو خود ہی تعلیم دے دے اور خود ہی ان کو پاک کر دے۔پس یہی وہ بات ہے جس کے متعلق آنحضرت ا و استغفار کرنے کا ارشاد ہوا ہے۔ذنب کے معنی ایک زائد چیز کے ہیں اور غفر ڈھانکنے کو کہتے ہیں۔اس سے خدا تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کو یہ بات سکھائی ہے کہ تم یہ کہو کہ میں اس قدر لوگوں کو کچھ نہیں سکھا سکتا پس آپ ہی ان کو سکھائیے اور میری اس انسانی کمزوری کو ڈھانپ دیجئے۔دیکھو حضرت مسیح موعود علیہ السلام ابتدائی زمانہ میں ایک ایک سے اپنے ہاتھ پر ہاتھ رکھا کر بیعت لیتے تھے پھر ترقی ہوئی تو لوگ ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرنے لگے۔پھر حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے زمانہ میں تو پگڑیاں پھیلا کر بیعت ہوتی تھی اور اب بھی اسی طرح ہوتی ہے۔تو ایک آدمی ہر طرف نہیں پہنچ سکتا۔آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں کوئی مسلمان یمن میں تھا کوئی شام میں کوئی عراق میں تھا کوئی بحرین میں اور کوئی نجد میں تھا۔اس لئے نہ آنحضرت ا ہر ایک کے پاس پہنچ سکتے تھے اور نہ وہ آپ تک آسکتے تھے۔جب حالت یہ تھی تو ضرور تھا کہ آپ کی تعلیم میں نقص رہ جاتا لیکن آپ کا دل کبھی یہ برداشت نہ کر سکتا تھا۔اس لئے آپ کو حکم ہوا کہ خدا سے دعا کرو کہ اے خدا ! اب یہ کام میرے بس کا نہیں اس لئے تو ہی اسے پورا کر۔کیونکہ شاگرد بہت ہیں اور میں اکیلا مدرس ہوں مجھ سے ان کی تعلیم کا پورا ہونا مشکل ہے۔آج کل تو سکولوں میں یہ قاعدہ ہو گیا ہے کہ ایک استاد کے پاس چالیس یا پچاس سے زیادہ لڑکے نہ ہوں اور اس سے زیادہ لڑکوں کو جماعت میں داخل نہ کیا جائے۔اور اگر کیا جائے تو ایک اور استاد رکھا جائے۔کیونکہ افسران تعلیم جانتے ہیں کہ اگر ایک جماعت میں بہت زیادہ لڑکے ہوں۔اور ایک اکیلا استاد پڑھانے والا ہو تو لڑکوں کی تعلیم ناقص رہ جاتی ہے۔چنانچہ جن سکولوں میں بہت سے لڑکے ہوتے ہیں اور ایک استاد وہاں کے لڑکوں کی تعلیمی حالت بہت کمزور ہوتی ہے۔کیونکہ زیادہ لڑکوں کی وجہ سے استاد ہر ایک کی طرف پوری پوری توجہ نہیں کر سکتا۔تو چونکہ فتح کے وقت لاکھوں انسان مسلمان ہو کر اسلام میں داخل ہوتے تھے۔اس لئے آنحضرت ﷺ کو یہ خطرہ دامن گیر ہوا کہ مسلمان تعلیم میں ناقص نہ رہ جائیں۔خدا تعالیٰ نے آپ کو اس کے متعلق یہ گر بتا دیا کہ خدا کے آگے گر جاؤ۔اور اس کو کہو کہ آپ ہی اس کام کو سنبھال لے۔میری طاقت سے تو اس کا سنبھالنا با ہر ہے۔