انوارالعلوم (جلد 3) — Page 158
انوار العلوم جلد۔r۔۱۵۸ معنوں کے لحاظ سے استعمال نہیں کیا گیا جن معنوں میں عام طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔آپ کے متعلق اور معنوں میں استعمال ہوا ہے اور یہ بات اس طرح معلوم ہوتی ہے کہ آنحضرت ال کی نسبت ذنب کا لفظ قرآن شریف میں تین جگہ آیا ہے۔اول سورہ مومن میں جہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے فَاصْبِرُ إِنَّ وَعْدَ اللهِ حَقٌّ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ بِالْعَشِ والا بكار (المؤمن : (۵۲) دوم سورہ محمد میں یوں آیا ہے فَاعْلَمْ أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ ال وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤمِنتِ وَاللهُ يَعْلَمُ مَتَقَلَبَكُمْ وَمَنو سمر محمد (۲۰) سوم سورہ فتح میں آیا ہے اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنَا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَاخَرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُسْتَقِيمَ (الفتح: ۲-۳) ای طرح بعض جگہ پر استغفار کا لفظ آپ کی نسبت استعمال ہوا ہے جیسا کہ اسی سورۃ میں جو میں نے ابھی پڑھی ہے۔ان سب جگہوں پر اگر ہم غور کریں تو ایک ایسی عجیب بات معلوم ہوتی ہے جو سارے اعتراضوں کو جل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ ان سب جگہوں میں آنحضرت کے دشمنوں کے ہلاک ہونے اور آپ کی فتح کا ذکر ہے۔پس اس جگہ بالطبع یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی فتح اور آپ کے دشمنوں کی مغلوبیت کے ساتھ گناہ کا کیا تعلق ہے۔اور یہی بات ہے جس کے بیان کرنے کے لئے میں نے یہ سورۃ پڑھی ہے اور جس سے ہمیں اقوام کے تنزل و ترقی کے قواعد کا علم ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے ان آیات کے یہ معنی کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کو یہ فرماتا ہے کہ اب تمہاری فتح ہو گئی اور تمہارے دشمن مغلوب ہو گئے۔اس لئے تمہارے دنیا سے رخصت ہونے کا وقت آگیا ہے پس تو تو بہ اور استغفار کر۔کیونکہ تیری موت کے دن قریب آگئے ہیں اور گو یہ استدلال درست ہے لیکن ان معنوں پر بھی وہ اعتراض قائم رہتا ہے۔کہ آپ نے کوئی گناہ کئے ہی ہیں اسی لئے تو بہ کا حکم ہوتا ہے۔میں نے جب ان آیات پر غور کیا تو خدا تعالیٰ نے مجھے ایک عجیب بات سمجھائی اور وہ یہ کہ جب کسی قوم کو فتح حاصل ہوتی ہے اور مفتوح قوم کے ساتھ فاتح قوم کے تعلقات قائم ہوتے ہیں تو ان میں جو بدیاں اور برائیاں ہوتی ہیں وہ فاتح قوم میں بھی آنی شروع ہو جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فاتح قوم جن ملکوں سے گزرتی ہے ان کے عیش و عشرت کے جذبات اپنے اندر لیتی جاتی ہے۔اور چونکہ عظیم الشان فتوحات کے بعد اس قدر آبادی کے ساتھ فاتح قوم کا تعلق وتا ہے جو فاتح سے بھی تعداد میں زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کو فوراً تعلیم دینا اور اپنی