انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 565 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 565

دم جلد ۳ ۵۶۵ زندہ خدا کے زیر دست نشان طرف منسوب کرتے ہیں۔مسلمانوں کو دیکھو ہر ایک مشہور آدمی کا مقبرہ یا کوئی اور متبرک شئے جو کسی غیر ملک میں پائی جاتی ہے اس کی نقل انہوں نے یہاں بنا رکھی ہے اور اس کو اصل قرار دیتے ہیں۔ہندوؤں کا بھی یہی حال ہے۔ایک ایک بزرگ کے مسکن و مولد کے کئی علاقے دعویدار ہیں کیونکہ وہ اس میں اپنی عزت پاتے ہیں۔جب غلط اور بنارٹی عزت کے لئے اس قدر کوشش کی جاتی ہے تو حقیقی اور کچی عزت کو کیوں چھوڑا جاتا ہے۔خدا کے انعام کی قدر کرو کہ اس میں بھلا ہے اگر آپ لوگوں پر بڑا فضل ہوا ہے تو آپ بڑی ذمہ داری کے نیچے بھی ہیں جو خدا کے فضل کو رد کرتا ہے خدا تعالٰی کا غضب اس پر بھڑک پڑتا ہے۔پس اپنے دل میں خود فیصلہ کرو کہ ان دونوں میں سے کون سی شے اس قابل ہے کہ اسے قبول کیا جائے آیا اس کا غضب یا فضل۔خوب یاد رکھو خدا کا غضب برداشت کرنے کی کسی میں طاقت نہیں۔پس اس کے فضل کو قبول کرو اور اس کے مامور اور او تار پر ایمان لاؤ تا دونوں جہان میں سکھ پاؤ۔اے یورپ و امریکہ کے لوگو! تم نے خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ مادی عالم کو اختیار کر کے بہت سے فوائد حاصل کئے ہیں اور علوم و فنون کے دروازے تم پر کھل گئے ہیں۔کیا یہ تمہارے لئے کافی تحریص نہیں کہ اس کے عالم روحانی کی بھی سیر کرو تا اس سے بھی زیادہ کامیابی کا منہ دیکھو۔تم خدا تعالیٰ کی قدرت کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کر رہے ہو اور اس جنگ عالمگیر کی عظمت اور زار روس کی حالت زار کو ان لوگوں کی نسبت جو دوسرے ممالک کے رہنے والے ہیں زیادہ لد گی۔سے سمجھ سکتے ہو۔پس خدا کے نشانوں سے فائدہ اٹھاؤ تا خدا تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنو۔یاد رکھو کہ وہ اسلام جو پادریوں نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے حقیقی اسلام نہیں بلکہ مسح کر کے تمہارے سامنے پیش کیا گیا ہے۔حقیقی اسلام علوم روحانی کا ایک ایسا بیش بہا ذخیرہ ہے کہ اس کا مقابلہ کوئی اور مذہب نہیں کر سکتا۔حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔پس اسلام کو اس نظر سے نہ دیکھو جس سے کہ اسلام کے دشمن تم کو دکھانا چاہتے ہیں بلکہ اس نظر سے دیکھو جس سے کہ صحیح تم کو دکھانا چاہتا ہے۔اور غور کرو کہ اسلام کے پھل کیسے شیریں ہیں۔اس وقت جب کہ سب مذاہب اپنی صداقت کا زندہ نمونہ پیش کرنے سے قاصر ہیں اسلام ہی ایک مذہب ہے کہ جو اپنی زندگی کا ثبوت دیتا ہے اور جس پر چل کر انسان خدا تعالی سے ہم کلام ہوتا ہے۔پس اسلام کو قبول کرو اور اس نبی پر جس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں اور اسلام کی شریعت پر چل کر خدا سے اس رتبہ کو پایا ہے ایمان