انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 564

رالعلوم جلد ۳ ۵۶۴ زندہ خدا کے زبردست نشان بھی تیار ہے مگر خود ہی اس کی رضا کی راہ کو چھوڑ گئے ہیں جس کی وجہ سے اس کے فضلوں سے محروم ہو گئے ہیں۔ورنہ خدا تعالیٰ اب بھی بولتا ہے۔چنانچہ اس نے اس زمانہ میں حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود سے کلام کیا ہے اور ان کی اتباع کرنے والے اور ہزاروں سے ہم کلام ہوا ہے۔ہو۔اے اہل ہند! آپ خواہ کسی قوم یا کسی مذہب یا کسی زبان کے بولنے والے ہیں۔میں آپ کو اس بات کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ آپ لوگ اس نعمت الہی کی قدر کریں جو اس نے اپنے فضل سے آپ پر نازل فرمائی ہے۔کسی ملک میں خدا تعالیٰ کا نبی آنا اس ملک کی کچھ کم عزت نہیں بلکہ یہ وہ انعام الہی ہے جس پر قومیں رشک کرتی ہیں۔خوش ہو کہ خدا نے اس زمانہ کے لئے ملک ہند کو جو آپ لوگوں کا مسکن و وطن ہے چنا۔مختلف ممالک کے لوگ اس نعمت کے حصول کے لئے سخت آرزو مند تھے اور ہر ایک شخص خواہش کرتا تھا کہ میرا ملک اس کا مورد لیکن خدا کے فضل نے اس نعمت کا سزاوار ہند کو قرار دیا۔پس اہل ہند جس قدر بھی اس احسان پر خوش ہوں کم ہے۔کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی نادانی ہو سکتی ہے کہ خدا تعالیٰ کسی ملک کو انعام دے اور وہ اس کے لینے سے انکار کرے۔پس حق کے قبول کرنے لئے دوڑو کہ اس میں آپ لوگوں کے لئے دینی و دنیاوی دونوں طرح کی عزت ہے۔وہ دن آتے ہیں جب مسیح موعود کے طفیل ہندوستان کا نام بلند کیا جائے گا۔بلکہ وہ دن دروازہ پر ہے بلکہ اس کی پو پھٹ رہی ہے۔پس غفلت شعار مت بنو۔اور اس شخص کی طرح مت ہو جس کے گھر میں پیشمہ پھوٹ رہا ہو اور چاروں طرف کے لوگ اس میں آکر خیمہ زن ہو رہے ہوں اور اس سے سیراب ہو رہے ہوں لیکن وہ خود پیاسا تڑپ رہا ہو اور پانی پینے کی کوشش نہ کرے۔مختلف ممالک کی سعادت مند رو میں خدا کے اس مامور کے دامن سے وابستہ ہو کر فیوض روحانی حاصل کر رہی ہیں۔پس کس قدر افسوس ہے اس قوم پر جو قریب ہو کر بعید ہو اور پاس ہو کر دور ہو۔گنگا آپ لوگوں کے گھروں میں بہہ رہی ہے اس کے متبرک پانی میں نہا کر اپنی ادناس کو دور کرو۔کہ خدا کے نزدیک مادی پانی سے اپنے بدن کو صاف کرنے والا شخص پاک نہیں کہلاتا بلکہ وہ جو کہ روحانی پانی سے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔اے اہل ہند! اپنی عزت کا خیال ایک فطری امر ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جاتا ہے گو اس عزت کے معیار میں فرق ہوتا ہے۔بہت سے لوگ تو نا جائز طور پر تمام عزت کی باتوں کو اپنی