انوارالعلوم (جلد 3) — Page 408
۴۰۸ سمجھتے ہیں۔پھر وہ کیوں خود اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔خیر۔اگر وہ اپنے آپ کو پیش کرنے سے ڈرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ وہ یہ نہ کہیں کہ میں مباہلہ کرتا ہوں بلکہ اپنے بچوں کو پیش کر کے مباہلہ کرلیں۔ان کے لڑکوں کی عمر مجھ سے چھوٹی ہے۔اور مجھ سے صحت بھی اچھی ہے۔پھر میں اکیلا ہوں۔اور وہ پانچ ہیں۔ان پانچوں کو میرے مقابلہ پر رکھ کر قسم کھا جائیں کہ ان کو میری بیعت کرنے کے وقت میرے عقائد کا علم نہ تھا۔مگر میں ابھی کے دیتا ہوں کہ چونکہ ان لوگوں کے دلوں میں یہ بات بڑی مضبوطی سے گڑی ہوئی ہے کہ اگر میرے مقابلہ پر آئیں گے تو ہلاک ہو جائیں گے۔اس لئے وہ مقابلہ کے لئے کبھی تیار نہیں ہوں گے اور ادھر ادھر کی باتیں بنا کر بچنا چاہیں گے۔کیسے غضب کی بات ہے کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے خواجہ صاحب کے اس مضمون پر دستخط کر دیئے جو میرے مقابلہ پر لکھا گیا تھا۔(حضرت خلیفہ اول نے دستخط کرنے کے متعلق مجھے بتایا تھا کہ خواجہ صاحب نے آکر کہا تھا کہ میرا اور میاں صاحب کا ایک ہی مذہب ہے) تو اس وقت مولوی محمد احسن صاحب مجھ سے اس بات پر بحث کرتے رہے کہ مولوی صاحب نے یہ سخت کمزوری دکھائی ہے کہ خواجہ صاحب کے مضمون پر دستخط کر دیئے ہیں۔اور میں انہیں جواب دیتا رہا۔اور اس کے متعلق مولوی صاحب نے مجھے یا نواب صاحب کو ایک خط لکھا تھا۔جس میں لکھا تھا کہ مولوی صاحب کے گھوڑے پر سے گرنے کی پیشگوئی ہے۔وہ ان کے دستخط کرنے سے پوری ہو گئی۔اور مولوی صاحب نے ارتداد کر لیا۔اس کا میں نے ان کو یہ جواب دیا تھا کہ جب یہ الہام لفظاً پورا ہو گیا ہے۔یعنی مولوی صاحب واقعہ میں گھوڑے پر سے گر گئے ہیں۔تو پھر وہ معنی نہیں لئے جاسکتے۔جو آپ نے لئے ہیں۔یہ تو حضرت خلیفہ اول کی بات ہے۔میری بیعت کرنے کے بعد کا ایک خط ہمارے پاس موجود ہے۔جو مولوی محمد احسن صاحب کے بیٹے کا ان کی طرف سے لکھا ہوا ہے۔اس میں وہ لکھتا ہے۔" بحضور جناب خلیفتہ المسیح و المهدی حضرت میرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فضل عمر دام اِقْبالُكُمْ وَاِجلالُكُم - وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہه - مرحمت نامہ نے صدور فرما کر اعزاز دارین بخشا۔رسالہ إِنَّهُ لَقَولُ فَصَلَّ وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ کو خاکسار نے جناب والد صاحب کو نایا۔دعاوی صادقہ اور مصدقہ سن کر ایسے خوش ہوئے کہ عوارض لاحقہ متعلقہ پیری و دیگر امراض کو فراموش کر دیا اور کہنے لگے کہ الحمد للہ میں نے وہ وقت پالیا کہ جس کا میں سالہا سال - سے منتظر تھا۔"