انوارالعلوم (جلد 3)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 660

انوارالعلوم (جلد 3) — Page 407

علوم چاند ۳۰ متفرق امور صاجزادہ محمود احمد صاحب کی بیعت کرلیں تاکہ وحدت قومی قائم رہے مجھے اس وقت تک علم نہ تھا کہ صاحبزادہ صاحب کے عقائد میں کوئی فساد واقع ہو چکا ہے"۔لیکن میں بڑے زور سے کہتا ہوں اور اعلان کرتا ہوں کہ یہ انہوں نے بالکل غلط لکھا ہے میں ان کے لئے ایک ہزار روپیہ انعام رکھتا ہوں کہ وہ اسی طرح کی قسم کھا کر بیان کریں جس طرح کی قسم حضرت مسیح موعود نے تریاق القلوب میں بیان فرمائی ہے کہ انہیں اس وقت جبکہ انہوں نے میری بیعت کی تھی۔میرے عقائد کا علم نہ تھا۔کیا وہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں اپنے عقائد پر مجھ سے گفتگو نہیں کرتے رہے۔ضرور کرتے رہے ہیں۔اور اب جھوٹ کہتے ہیں کہ انہیں میرے عقائد کا علم نہ تھا۔میں ان کو اس قسم کے اٹھانے کے لئے اس لئے کہتا ہوں کہ وہ اپنی جان کو قسم کے معاملہ میں لانے کے متعلق یوں لکھتے ہیں : ”میری موت اس مقابلہ کے ماتحت نہیں ہوگی۔کیونکہ میں اتنی سے متجاوز ہو گیا ہوں میں اپنی موت کو ایک نعمت غیر مترقبہ اعتقاد کرتا ہوں (رسالہ القول المجد صفحہ ۸۸) یعنی یہ کہ آپ موت کے ساتھ بہت محبت رکھتے ہیں۔گویا اسے نعمت غیر مترقبہ سمجھتے ہیں۔اس لئے مباہلہ کے لئے سامنے نہیں آتے۔حالانکہ یہ غلط ہے۔قرآن کریم تو یہود کی نسبت کہتا ہے۔۔قُلْ إِنْ كَانَتْ لَكُمُ الدَّارُ الْآخِرَةُ عِنْدَ اللهِ خَالِصَةً مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوا الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صَدِقِيْنَ ، وَلَنْ يَتَمَنَّوْهُ اَبَدًا بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ، وَاللهُ عَلِيمٌ بِالظَّلِمِينَ وَ لَتَجِدَتْهُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلَى حَيُوةٍ ، وَ مِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا يَوَتُ أحَدُهُمْ لَوْ يُعمرُ : الفَ سَنَةٍ وَمَا هُوَ بِمَزَحْزِهِ مِنَ الْعَذَابِ أَنْ يُعَمَّرَ ، وَ اللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ (البقره: ۹۵ تا ۹۷) کہ ان کو چیلنج دو کہ مباہلہ کرلیں۔لیکن وہ قبول نہیں کریں گے۔کیونکہ انہیں دنیا سے بہت محبت ہے۔مگر ہم کو یہ سنایا جاتا ہے کہ میں اس لئے مباہلہ نہیں کرتا کہ مجھے موت سے محبت ہے۔اب یا تو قرآن کریم کو (نعوذ باللہ ) جھوٹا کہا جائے گا۔یا اس کو جو کہتا ہے کہ مجھے موت سے محبت ہے۔لیکن قرآن کریم تو کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ اس خدا کا کلام ہے۔جو سب بچوں سے زیادہ سچا ہے۔بات اصل میں یہ ہے کہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اگر میں مباہلہ کے لئے مقابلہ پر آیا تو ہلاک ہو جاؤں گا۔مولوی محمد علی صاحب تو مباہلہ کو جائز ہی نہیں سمجھتے۔اور اس طرح وہ اپنا پیچھا چھڑانا چاہتے ہیں۔لیکن مولوی محمد احسن صاحب تو جائز